بھارت میں نر یندر مودی کے دور میں جمہوریت مسلسل زوال پذیر ہے

 

INDIAنئی دہلی 04 اکتوبر(کے ایم ایس) دیباشش رائے چودھری اور جان کیین نے بھارت کے بارے میں ایک دلچسپ کتاب لکھی ہے جس کا نام“To Kill a Democracy: India’s Passage to Despotism” ہے اوریہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی ہے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق یہ کتاب وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں جمہوریت کے مسلسل زوال سے متعلق ہے۔ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے صحافی دیباشش رائے چودھری اور سڈنی یونیورسٹی میں سیاست کے پروفیسر جان کیین نے بھارت کی سماجی اور سیاسی برائیوں کی نشاندہی کی ہے کہ مودی طرز کی مقبولیت سے کس طرح جمہوریت برباد ہورہی ہے ۔ مصنفین پارلیمنٹ کے کام کاج کو دستاویز شکل دی ہے تاکہ یہ بتایا جا سکے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ، 138 کروڑ آبادی کے ملک میں جمہوریت کس طرح تباہ ہورہی ہے۔ انہوں نے حوالہ دیا کہ 2008 میں 17منٹ میں آٹھ بل منظور کئے گئے۔ 2018 میں پارلیمنٹ نے218 ترامیم پر مشتمل دو بلوں کے ساتھ 99 وزارتوں اور سرکاری محکموںکے مطالبات زر منظور کرنے میں 30 منٹ لگائے ۔ کسی بھی موقع پر اس موضوع پر کوئی بحث نہیں ہوئی جس کی طرف اشارہ کیا گیا کہ مودی حکومت کے تحت بھارت میں جمہوریت کے زوال کا عمل تیز ہو گیا ہے۔مصنفین کا خیال ہے کہ بھارت اب جمہوریت سے انتخابی آمریت کے نظام حکومت کی طرف بڑھ رہاہے اورآمریت وزیر اعظم نریندر مودی کے کئی فیصلوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ نوٹ بندی ، جی ایس ٹی ، جموں و کشمیر کی خودمختار حیثیت کی منسوخی ، کورونالاک ڈاو¿ن کا اعلان کرنے جیسے فیصلے انتخابی آمریت کی واضح مثالیں ہیں ۔چنئی سے تعلق رکھنے والے صحافی سید علی مجتبیٰ نے ایک مضمون میں کتاب کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ مصنفین نے اس بات پر بحث کی کہ بھارت کاآمریت کی طرف بڑھنا محض سکڑتے شہری حقوق اور ٹوٹے ہوئے سرکاری ا داروں کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ فلاح و بہبود کے انتظامات اور معاشی اور سماجی بہبودکے پہلوﺅں سے بھی ہے۔مصنفین کا خیال ہے کہ بھارت اب ایک وفاقی جمہوریہ نہیں رہا بلکہ ایک وحدت پسند ریاست ہے جس میں چند علامتی وفاقی خصوصیات ہیں۔ ایک مثال یہ ہے کہ 2020 میں کوویڈ پھیلنے کے دوران مرکزی حکومت نے صحت کے محکمے پر قبضہ کر لیا اور ملک کو ریاستوں سے مشورہ کیے بغیر ‘اک ڈاو¿ن کااعلان کیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ مودی حکومت بھارت میں جمہوریت کو تباہ کررہی ہے۔مصنفین نے وزیر اعظم مودی کے پسندیدہ نعرے” سب کا ساتھ سب کا وکاس“ پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ زمینی حقیقت بالکل اس کے برعکس تصویر پیش کررہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: