بھارت

یوگی آدتیہ ناتھ نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہروں کے دوران مسلمانوں کے قتل کا حکم دیا تھا، وکلا گروپ

ڈیووس21جنوری(کے ایم ایس)جرائم و انسانی حقوق سے متعلق وکلاءکے ایک عالمی گروپ ”گویرینکا37“نے بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف سوئس پراسیکوٹرکے دفتر میں قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق ایک شکایت درج کرائی ہے ۔
گویرنیکا 37نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو دبانے کیلئے اترپریش میں دسمبر 2019اور جنوری 2020کے درمیان مسلمانوں کو جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں ڈالنے ، انہیں مظالم کا نشانہ بنانے اور انکے قتل کا حکم دیا تھا ۔ بیان میں کہا گیا کہ پولیس تشدد میں وزیر اعلیٰ کا کردار 19دسمبر 2019کو کی گئی انکی ایک تقریر سے واضح ہے جس میں انہوں نے پولیس سے مظاہرین کے خلاف بدلہ لینے کی بات کہی تھی۔ بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ ہونے کے باوجود انہیں ان جرائم کیلئے چھوٹ حاصل نہیں ہے ۔ گویرنیکا 37کی طر ف سے درج کرائی گئی شکایت میں کہا گیا کہ یو پی پویس نے مظاہروں کے دوران 22افراد کو قتل جبکہ 307افراد کو بلاجواز طور پر گرفتار کیا ۔
گویرنیکا 37کے بانی ٹابی کیڈمین نے ایک بھارتی نیوز پورٹل ”دی نیوز منٹ“ کو ایک ای میل کے جواب میں بتایا ہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) سے وابستہ یوگی آدتیہ ناتھ کے کریمنل ریکارڈ سے متعلق مواد میں موجود متاثرہ افراد کے بارے میں معلومات ، شکایت دہندگان اور عرضی دہندگان کے کوائف سیکورٹی کے پیش نظر پوشیدہ رکھے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ سوئٹرز لینڈ کے شہر ڈیووس میں 16 تا20جنوری ورلڈ اکنامک فورم کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی شرکت کے امکانات بھی ظاہر کیے جارہے تھے لیکن وہ شریک نہیں ہوئے ۔ وہ کیوں نہیں گئے اس سلسلے میں حکومت اتر پردیش کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا لیکن بین الاقوامی وکلا گروپ کی طرف سے انکے خلاف سوئس فیڈرل پراسیکوٹر کے دفترمیں درج کرائی جانے والی شکایت سرخیوں میں ہے۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d