تازہ ترین

افضل گورو کا عدالتی قتل ایک سازش کا حصہ تھا، فاروق رحمانی

اسلام آباد08 فروری (کے ایم ایس)
جموں و کشمیرپیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین اورکل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے سابق کنوینرمحمد فاروق رحمانی نے کہا کہ شہید محمد افضل گوروتحریک آزاد ی کشمیر کے علمبردار تھے جنہیں کشمیری کبھی بھلا نہیں سکتے ۔ انہوں نے کہاکہ افضل گورو کا عدالتی قتل ایک سازش کا حصہ تھا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محمد فاروق رحمانی نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کہاکہ بھارت نے تحریک آزادی میں نمایاں کردار کی پاداش میں محمد افضل گورو کو 9 فروری 2013 کو نئی دلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دیدی تھی اور انکی میت کو جیل کے احاطے میں ہی دفن کر دیاتھا۔انہوں نے افضل گورو کی تہاڑ جیل میں پھانسی اور انکی میت کی جیل کے احاطے میں تدفین کو عدالتی قتل قراردیا کیونکہ بھارتی سپریم کورٹ نے ہندوستانیوں کے اجتماعی ضمیر کو خوش کرنے کیلئے انہیں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے جھوٹے مقدمے میں موت کی سزا سنائی تھی ۔انہوں نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے افضل گورو کی سزا ئے موت کا فیصلہ یقینا کشمیریوںکی حق پر تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے ایک بے بنیاد اور من گھڑت فیصلہ تھا اور ہندوستان کی اعلیٰ عدلیہ نے فسطائیت کی حوصلہ افزائی کی اور ملک میںکٹر ہندو فسطائی جماعت کو اقتدار دینے کی راہ ہموار کی۔فاروق رحمانی نے کہاکہ کشمیر میں اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات بھارت کے نسل پرست سنگھ پریوار کے جموں و کشمیر پر جارحانہ قبضے کی تصدیق کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کشمیر کبھی بھی بھارت کے غیر قانونی تسلط کو قبول نہیں کریں گے ۔محمد فاروق رحمانی نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے چارٹر پر عمل کرتے ہوئے بلاتاخیر محصور اور غیر قانونی طورپر کشمیریوںکو آزادی دلائے ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: