بیانات

اقوام متحدہ کشمیریوں کو انکا حق خودارادیت دینے کیلئے بھار ت کو مجبور کرے ، آسیہ اندرابی

image_2023-10-03_135921994
سرینگر :نئی دلی کی تہاڑ جیل میں غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری حریت رہنما اور دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے مودی حکومت کے کشمیر مخالف پالیسیوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کو کشمیریوں کو ان کاناقابل تنسیخ حق خودارادیت دینے پرمجبور کرے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آسیہ اندرابی نے بھارتی جیل سے جاری ایک پیغام میں کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حل سے جموں وکشمیر کے لاکھوں لوگوں کا مستقبل وابستہ ہے اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق دیرینہ تنازعہ کشمیر کو حل کر کے ان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔بھارتی پولیس نے آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 2017 میں سرینگر میں ان کی رہائش گاہوں پر چھاپوں کے دوران گرفتارکر کے نئی دلی کی تہاڑ جیل منتقل کردیاتھا۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کوفوجی چھائونی میں تبدیل کر دیا ہے جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2019 کے بعدسے مودی حکومت نے کشمیریوں کو بے اختیار کرنے اور انہیںحق رائے دہی سے محروم کرنے کے لیے متعددظالمانہ اقدامات کیے ہیں اورقابض حکام نے مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں پر مظالم کاسلسلہ بھی تیز کر دیا ہے۔انہوں نے واضح کیاکہ مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں انسانیت کے خلاف گھنائونے جرائم کے ارتکاب کے علاوہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموںوکشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کیلئے متعدد مذموم اقدامات کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام بی جے پی اورآر ایس ایس کی ہندوتوااورمسلم دشمن اور کشمیر دشمن پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کا حل نہ صرف بھارت اور پاکستان بلکہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ پورے جنوبی ایشیاء کے خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔آسیہ اندرابی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پر امن حل کیلئے بھارت پر دبائو ڈالے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی پرمبنی پالیسی تنازعہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d