تازہ ترین

جامع مسجد سرینگر میں لوگوں کو نماز جمعہ کی ادا ئیگی سے روکنے کی شدید مذمت

سرینگر16اکتوبر (کے ایم ایس) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںمیر واعظ عمر فاروق کی سرپرستی میں قائم حریت فورم نے قابض حکام کی طرف سے جامع مسجد سرینگر کی جبری بندش اورہزاروں لوگوں کو تاریخی مسجد میں نماز جمعہ کی ادا ئیگی سے روکنے کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حریت فورم نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مسجد کو کورونا وبا کے پھیلاو¿ کی روک تھام پر بند کرنے کا بہانہ مکمل طور پر بے نقاب ہوگیا ہے۔بیان میں کہاگیاکہ بندش سے کئی دہائیوں سے مرکزی مسجد میں نماز ادا کرنے والوں کے جذبات کو پہنچنے والی ٹھیس، دکھ اور تکلیف کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض حکمرانوں نے جو ماحول پیدا کیا ہے وہ اتنا گھٹن زدہ اور دہشت زدہ ہے کہ کوئی پوچھنے کی ہمت نہیں کرتا کہ لوگوں کونماز اداکرنے کے بنیادی حق سے کیوں محروم کیا گیا ہے۔ بیان میں کہاگیا کہ کشمیریوں کو خاموش کرانے کے لیے ہرقسم کی کوششیں کی جا رہی ہیں اوروادی کے طول وعرض میں کریک ڈاو¿ن اورگرفتاریاں جاری ہیں۔اب تک اساتذہ ،صحافیوں اور تاجروں سمیت ایک ہزار سے زائد افراد کو کالے قوانین کے تحت گرفتارکیاگیا ہے۔نوجوانوں سمیت لوگوں کو پولیس اسٹیشنوں میں طلب کرکے پوچھ گچھ کی جا تی ہے تاکہ کوئی سوال پوچھنے کی ہمت نہ کر سکے۔حریت فورم نے کہاکہ اس منظم جبر اور گھٹن زدہ ماحول سے بھارت کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور بہت سے نوجوان مزاحمت کے لیے پرتشدد راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور اس طرح کشمیری عوام کو تنازعہ کشمیرحل نہ ہونے کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں اداکرنا پڑتی ہیں۔ فورم نے کہا کہ ظلم وجبر اور مذاکرات سے انکارسے بھارت کو کچھ حاصل ہونے والا نہیں اور اس کے پاس تنازعہ کشمیر کو حل کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: