بھارتی فوج کے ہاتھوں سری لنکا کے جافنا ہسپتال قتل عام کو 38سال مکمل

جافنا، سری لنکا:سری لنکا کے جافنا ٹیچنگ ہسپتال میں اکتوبر1987میںبھارتی فوج کے ہاتھوں قتل عام کے واقعے کو 38برس مکمل ہو گئے ہیں ۔ اس ہولناک واقعے میں بھارتی فوج نے 47 تمل مریضوں اور 21ڈاکٹروں کو قتل کیاتھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 21اور 22اکتوبر 1987کو سری لنکا میں خانہ جنگی کے دوران یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بھارتی پیس کیپنگ فورس کے دستوں نے جافنا ٹیچنگ ہسپتال پر دھاوا بول دیا۔تمل گارڈین نے عینی شاہدین کے حوالے سے انکشاف کیاہے کہ بھارتی فوجیوں نے منظم طریقے سے مریضوں اور طبی عملے کو موت کاسفاکانہ طورپر قتل عام کیا۔2008میں سری لنکا کی حکومت نے سرکاری طور پر جافنا ہسپتال قتل عام کو انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم قرار دیاتھا۔ اس سے قبل بھی بھارتی فوج سری لنکا میں اسی طرح کے قتل عام کے واقعات ملوث رہی ہے، جس میں ویلکڈا میں 64شہریوں، 1988میں چاواکاچری کے علاقے میں 40 اور1989میں کوکووعلاقے میں 40سے زائد شہریوں کا قتل شامل ہے۔شہریوں کے قتل عام پر مشتمل تمل کمیونٹی نے انڈین پیس کیپنگ فورس کو "انڈین پیپل کلنگ فورس”قراردیاہے۔شہریوں کے بڑے پیمانے پر غم و غصے اور مزاحمت کی وجہ سے بالآخر بھارت کو سری لنکا سے اپنی فوجیں مجبوا واپس بلاناپڑی تھیں ۔1991میں تمل گارڈین نے رپورٹ کیاتھا کہ ایک تامل خاتون کالیوانی راجارتنم، جس کی بھارتی فوجیوں نے اجتماعی عصمت دری کی تھی، بعد میں سابق بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی پر قاتلانہ حملے میں شامل تھی ۔تمل گارڈین کے مطابق سری لنکا میں بھارتی فوجی مداخلت قتل عام،خواتین کی عصمت دری، لوٹ مار اور سماجی ناانصافیوں سمیت بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا باعث بنی تھی ۔






