تازہ ترین

مقبوضہ وکشمیر پر بھارتی قبضہ جدید دور کی نوآبادیات کا بدترین مظہر ہے ، منیر اکرم کا جنرل اسمبلی کی فورتھ کمیٹی سے خطاب

اقوام متحدہ21اکتوبر (کے ایم ایس)
پاکستان نے اقوام متحدہ کی نوآبادیات کے خاتمہ بارے میںکمیٹی اور سلامتی کونسل سے جموں و کشمیر پر بھارتی نوآبادیات کے خاتمہ کیلئے اقدامات کرنے اور کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت کے استعمال کے قابل بنا نے کا مطالبہ کیا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے جنرل اسمبلی کی نوآبادیات کے خاتمہ کے بارے خصوصی سیاسی(چوتھی)کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ نو آبادیات کا خاتمہ اقوام متحدہ کے نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے۔ منیر اکرم کے کمیٹی سے خطاب کے بعد پاکستان اور بھارت کے سفارتی نمائندوں مین زبانی جھڑپ بھی ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پر بھارتی قبضہ جدید دور کی نوآبادیات کی بدترین شکل ہے۔انہوں نے کہا کہ 1946کے بعد سے 80سابقہ نوآبادتیوں نے آزادی حاصل کی ہے لیکن جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام ابھی بھی اپنے حق خود ارادیت سے محروم ہیں ۔ انہوں نے قرادردیا کہ نو آبادیا تیوں کے خاتمہ کے جاری اعلامیہ میں کہاگیا تھا کہ تمام لوگوں کوان کا حق خود ارادیت ملے گا ۔منیر اکرم نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے مزید تقدس دیا گیا جو کہ اس حتمی تصفیے کا تقاضا کرتی ہیں کہ ریاست کا فیصلہ اقوام متحدہ کے زیراہتمام ہونے والی آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے ہونا چاہیے،لیکن کشمیر آج دنیا کا سب سے گنجان مقبوضہ اور غیر قانونی زیر تسلط علاقہ ہے جہاں 9 لاکھ سے زائد بھارتی فوجی تعینات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری کشمیری قیادت کو قید کر دیا گیا ہے ، ہزاروں کشمیری نوجوانوں بشمول خواتین اور بچوں کو حراست میں لیا گیا ہے، احتجاج پر محلوں اور دیہات کو اجتماعی سزا کے طور پر تباہ کیا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے انٹرنیٹ اور مقبوضہ کشمیر میں غیر جانبدار مبصرین کا داخلہ بند کر دیا ہے۔منیر اکرام نے کہا کہ بابائے حریت سید علی گیلانی کی میت ان کے اہل خانہ سے چھین کرزبردستی اس کی تدفین کی گئی ، جس سے ان کے اہل خانہ سے ان کی بااحترام تدفین کا حق بھی چھین لیا گیا، یہ نہ صرف بھارتی ظلم وبربریت کو جانچنے کا ایک پیمانہ ہے بلکہ اس سے کشمیری عوام کی آزاد آواز کا بھارت پر خوف بھی ظاہر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ضم کرنے کی غیر قانونی کوشش کے بعد سے بھارت کا مقصد غیر کشمیری ہندوئوںکو جعلی ڈومیسائل سرٹیفکیٹ فراہم کرکے خطے کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے جو کہ یقینا نسل کشی ُکے مترادف ہے ۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے ایسی کارروائی کا مطالبہ کیا جس سے کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت کا استعمال کرسکیں۔بھارتی مندوب نے یہ بھی دعوی کیا کہ جموں و کشمیر کا پورا علاقہ ہندوستان کااٹوٹ انگ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ جس پراقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے مشیر بلال محمود چوہدری نے فوری طور پر بھارتی بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی مسلسل بھارتی نوآبادیات کی طرف توجہ مبذول کرانا کمیٹی کے وقت کا ضیاع نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے اور بھارت کااٹوٹ انگ نہیں ہے۔ بھارت کا یہ غلط دعویٰ حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں نے تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے حق خودارادیت کو گورننگ اصول کے طور پر قائم کیا۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ عالمی ادارے کا عزم ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ بھارت اپنی تنگ نظری پر مبنی سیاسی وجوہات کی بنا پر کشمیر میں تحریک آزادی کو دہشت گردی کے برابر قرار دیتا ہے ، انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروپیگنڈے کا مقصد صرف عالمی برادری کو دھوکہ دینا ہے۔بلال چوہدری نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کروانا نہ صرف اقوام متحدہ کاحق ہے بلکہ مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لانا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: