خصوصی رپورٹ

بھارت کشمیریوں کی جدوجہد اور پاکستان کو پروپیگنڈے کے ذریعے بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے

9ffe62dc-92f3-445e-9c86-48e1f49ee008سرینگر: بھارت بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں کی تحریک آزادی کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

کشمیر میڈیا کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو بدنام کرنے اور کشمیریوں میں پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دینے کے لیے مقبوضہ کشمیر کے اندر اور باہر اپنے کٹھ پتلیوں کو متحرک کر رکھا ہے ، پاکستان اور کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنا بھارت کی پرانی عادت ہے اور وہ اپنی مذموم مہم کے ذریعے کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد کوبدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت میڈیا، سائبر ٹیکنالوجی اور دہشت گردی کو پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف بڑے ہائبرڈ ٹولز کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور جھوٹے فلیگ آپریشنوں اور بلاجواز پروپیگنڈے کے ذریعے کشمیر کی تحریک آزادی کو دہشت گردی سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب سے ہندوتوا سے متاثر آر آر سوین نے مقبوضہ جموںوکشمیر میں نئے پولیس سربراہ کا عہدہ سنبھالا ہے تب سے پاکستان اور کشمیر مخالف مہم میںشدت آئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کیلئے گزشتہ سات دہائیوں سے اقوام متحدہ اور عالمی فورموں پر آواز اٹھا رہا ہے اور بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت آزادی پسند کشمیریوں کیلئے حوصلے کا باعث ہے۔ بھارت دہشت گردی کی سرپرستی کرنے اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو فروغ دینے والا ملک ہے۔ مودی حکومت پاکستان اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو بدنام کرنے کی اپنی سازشوں میں ناکام رہے گی۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی اداروں کو بھی ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ تاہم کشمیری عوام مقبوضہ کشمیر کو ہندو بنانے کی مودی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کے بارے میں دنیا کو ہرگز گمراہ نہیں کر سکتا،عالمی برادری کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ بھارت میں حکمران ہندوتوا حکومت عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d