کل جماعتی حریت کانفرنس کا کشمیری نظربندوں کی حالت زار پر اظہار تشویش

APHC-Logoسرینگر27 اگست (کے ایم ایس )
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ علاقے اور بھارت کی مختلف جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماﺅں اور کارکنوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں افسوس ظاہر کیا کہ کشمیری سیاسی نظربندوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک نے انکی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔ انہوں نے سیاسی نظر بندوں کی گرتی ہوئی صحت پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کی فسطائی حکومت قیدیوں کے حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر 1948کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ ترجمان نے بنیادی سہولیات سے محرومی اور غیر قانونی طورپر حراست میںلیے گئے مزاحمتی رہنماﺅں اور کارکنوں پر ہونے والے مظالم کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ جیلوں میں بھیڑکی وجہ سے گھٹن کا ماحو ل ہے اور اس وجہ سے پانی ، بیت الخلااور صفائی ستھرائی جیسے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کی وجہ سے کورونا وبا کے ایس او پیزپر عمل درآمد بھی نہیں ہوپا رہا اور سماجی فاصلے پر عمل درآمد مشکل ہو گیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ طبی سہولیات کے فقدان ، غیر معیاری غذا ، جسمانی تشدد ، نظر بندوں کی چوبیس گھنٹے تنگ و تاریک ڈیٹھ سیل میں موجودگی نے انکی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ترجمان نے سیاسی نظر بندوں کے عزم وہمت کو سراہتے ہوئے آسیہ اندرابی ، ناہیدہ نسرین ، فہمیدہ صوفی ، شازیہ اختر ، حسینہ بیگم ، صائمہ ، انشا طارق، حنا بشیر ، محبوبہ شفقت، صائقہ اختر، آسیہ بانو اور دیگر کو انتہائی خراج تحسین پیش کیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور انسانی حقوق کے دیگر عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں غیر قانونی نظر بندیوں اور اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالیں۔ انہوںنے کہا کہ دس لاکھ بھارتی فورسز اہلکاروں کے جابرانہ اقدامات کے باوجود مقبوضہ علاقے میں عوامی مزاحمت کو مدنظر رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادون کے مطابق حل کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: