انجمن اوقاف کی طرف سے لوگوں کوجامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کی مذمت

سرینگر12 نومبر (کے ایم ایس)
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے تاریخی جامع مسجد میںایک بار پھرلوگوں کو نماز جمعہ اداکرنے کی اجازت نہ دینے پر بھارتی قابض انتظامیہ کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انجمن اوقاف نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ قابض انتظامیہ نے ایک طرف تو پورے مقبوضہ کشمیرمیں مساجد، درگاہوں،امام بارگاہوں اور خانقاہوں کو نماز جمعہ کیلئے باضابطہ طورپر کھول دیا ہے جبکہ تاریخی جامع مسجد سرینگر میں مسلسل نما ز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں ہے جوکہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔بیان میں کہاگیا کہ قابض انتظامیہ کی طرف سے دانستہ طورپر لوگوں کو جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنا مسلمانوں کے دینی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے جس سے کشمیریوں کے مذہبی جذبات مجروح ہو رہے ہیں اوریہ ان کے لئے بالکل بھی قابل قبول نہیں۔ انجمن اوقاف نے کہا کہ قابض حکام کی جانب سے مرکزی جامع مسجد کو بار بار دانستہ طورپر نماز جمعہ کے لیے بند کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔جامع مسجد کی مسلسل بندش کی وجہ سے کشمیریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔بیان میں کہاگیا کہ کشمیری عوام کے علاوہ ہرمکتبہ فکر اور طبقے سے تعلق رکھنے والی انجمنوں،اداروں اور شخصیات نے جامع مسجد سرینگر کو نماز جمعہ کیلئے کھولنے اور5 اگست2019 سے مسلسل گھر میں غیر قانونی طور پر مسلسل نظر بند انجمن کے سربراہ میرواعظ محمد عمر فاروق کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں تاہم اس ضمن میں قابض انتظامیہ کی بے حسی سمجھ سے بالا تر ہے۔جموںوکشمیر کی بیشتر مساجد ،خانقاہوں، آستانوں اور امام بارگاہوں نماز جمعہ کے موقعہ پر تاریخی جامع مسجد سرینگر کو نماز جمعہ کیلئے کھولنے اور میرواعظ عمر فاروق کی رہائی کاپر زور مطالبہ کیاگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: