بھارت

بھارت مسلمانوں کیخلاف اسرائیلی ماڈل پر عمل پیرا ہے، الجزیرہ کی چونکا دینے والی رپورٹ

دوحہ:
عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مودی کی بھارتی حکومت اسرائیل طرز کی سکیورٹی اور انتظامی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، جن کے اثرات خصوصا مسلمانوں اور مقبوضہ جموں وکشمیر پر مرتب ہو رہے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں ایک مشترکہ نظریاتی وژن پایا جاتا ہے، جس میں اقلیتوں کو سکیورٹی اور جغرافیائی خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ہندوتوا نظریے کے زیر اثر حلقے اسرائیلی طرز حکمرانی سے متاثر ہیں اور سکیورٹی پالیسیوں میں نگرانی اور سخت اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔الجزیرہ کے مطابق 2019کے بعد مقبوضہ کشمیر میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے گئے، جن میں چیک پوسٹوں کا قیام، چھاپے اور مواصلاتی بندشیں شامل ہیں۔رپورٹ میں بی جے پی کی ہندوتوا حکومت کے دور میں اختلافی آوازوں کو دبانے کیلئے بلڈوزر جسٹس پالیسی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کے تحت مبینہ طور پر گھروں اور دکانوں کو مسمارکیاگیا، جسے ناقدین ماورائے عدالت اقدام قرار دیتے ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اختلافی آوازوں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔بھارتی حکومت کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button