بھارت

بھارت: جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کرنے کے فیصلے کی مذمت

نئی دہلی:بھارت میں اپوزیشن رہنماؤں اور کارکنوں نے دہلی پولیس کی جانب سے تاریخی جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مقررہ مقامات کی فہرست سے خارج کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو پرامن اجتماع کے بنیادی حق پر حملہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیرِ قیادت بھارتی حکومت کی جانب سے اختلافِ رائے برداشت نہ کرنے کی علامت قرار دیا ہے۔

دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار نے 11 اکتوبر کو جاری کیے گئے ایک حکم نامے میں جنتر منتر کو احتجاجی مظاہروں کے لیے مقررہ مقامات کی فہرست سے خارج کر دیا۔ اس کے بجائے تین متبادل مقامات مقرر کیے گئے ہیں، جن میں وسطی دہلی کا رام لیلا گراؤنڈ، شمالی دہلی کا براری گراؤنڈ اور مشرقی دہلی کا سی بی ڈی گراؤنڈ شامل ہیں۔

یہ فیصلہ بھارتی دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے احتجاجی مظاہروں کے دوران سامنے آیا ہے۔ ان مظاہروں میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج بھی شامل ہیں، جو انتخابی بے ضابطگیوں پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

سی جے پی کے شریک کنوینر سورَو داس نے اس فیصلے کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر ایک بیان میں انہوں نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے عوامی احتجاج کے حوالے سے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’نریندر مودی جنتر منتر سے خوفزدہ کیوں ہیں؟ جنتر منتر بھارت کے عوام کا ہے۔ کیا وزارتِ داخلہ نے بھارت کے عوام سے مشاورت کی؟‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’یہ بات لکھ لیجیے کہ جس طرح عوام کے جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کیا جا رہا ہے، اسی طرح وزیرِاعظم جلد ہی بھارت میں جمہوریت کو بھی فہرست سے خارج کر دیں گے۔ یہ اقدام اسی سمت ایک قدم ہے۔ ہم اس من مانے فیصلے کو قبول نہیں کرتے۔ یہ احتجاج اور پرامن اجتماع کے عوام کے بنیادی حق پر حملہ ہے۔ اب پورا ملک جنتر منتر بن رہا ہے۔‘‘

سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھی اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ’’آج مودی نے جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مقررہ مقام کی حیثیت سے خارج کر دیا ہے۔ کل وہ جمہوریت ہی کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔ آمر کا مسئلہ کبھی احتجاج کا مقام نہیں تھا، بلکہ اصل مسئلہ عوام کے احتجاج کرنے کا تصور تھا۔‘‘

کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے اس فیصلے کو وزیرِاعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی قیادت میں قائم حکومتی حلقوں کی شدید گھبراہٹ کی علامت قرار دیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ اس شدید گھبراہٹ کی واضح علامت ہے جس نے وزیرِاعظم اور وزیرِ داخلہ کی جوڑی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، کیونکہ اب تاریخی جنتر منتر وہ مقام نہیں رہے گا جہاں ہماری جمہوریت کو روزانہ تقویت ملتی تھی۔

جے رام رمیش نے کہا کہ ’’یہ زہریلی جوڑی مشکلات میں گھری ہوئی ہے اور ہم نے گزشتہ چند روز کے دوران دیکھا ہے کہ انہوں نے پرامن عوامی احتجاج سے کس قدر بے رحمی سے نمٹا ہے۔‘‘

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ-لیننسٹ) لبریشن نے بھی مودی حکومت کی جانب سے جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مقررہ مقامات کی فہرست سے خارج کرنے کے اقدام کی شدید مذمت کی۔

پارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ دہلی کو ایک فوجی قلعے میں تبدیل کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور غیر آئینی و من مانے ایس آئی آر عمل کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والے طلبہ، نوجوانوں، کارکنوں اور شہریوں کے خلاف نوآبادیاتی دور کے طرز پر پولیس جبر مسلط کیا گیا ہے۔ اب مودی-شاہ حکومت نے قومی دارالحکومت میں جمہوری احتجاج کے لیے باقی رہ جانے والی چند عوامی جگہوں میں سے ایک کو بند کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button