این آئی اے کی طرف سے خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت

واشنگن /برسلز23نومبر( کے ایم ایس )ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم نے بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے ہاتھوں کشمیری انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق خرم پرویز کا شمارمقبوضہ کشمیر کے سب سے جرات مند اور نڈر انسانی حقوق کے کارکنوں میں ہوتا ہے ۔خرم پرویزجموں وکشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے کوآرڈینیٹر اور جبری گمشدگیوں کے خلاف ایشین فیڈریشن کے سربراہ ہیں۔انہیں 2006میں پرامن طریقے سے انسانی حقوق کے لیے اہم کردار ادا کرنے کے اعتراف میں ‘ریبوک ہیومن رائٹس ایوارڈز’سے نوازا گیاتھا۔ اس ایوارڈکے تحت انہیں 50ہزار ڈالر کی گرانٹ دی گئی تھی جسئے انہوں نے کشمیر میں کولیشن آف سول سوسائٹی کو عطیہ کردیاتھا۔ ہندوستانی نژاد امریکی اسکالر پروفیسر گیتا پٹیل نے نومبر 2006میں ”دی وائس”جریدے کے شمارے میں خرم پرویز کے اختیار کردہ پرامن انداز کے بارے میں لکھا۔ خرم تیرہ سال کا تھا جب اس کے دادا کو ایک پرامن مظاہرے کے دوران قتل کر دیا گیاتھا۔ اپنے دادا کی موت کا بدلہ لینے کے لیے تشدد کی بجائے خرم نے تعلیم حاصل کی اور کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر جاری خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے پرامن حل تلاش کیا ۔پیر کی شام کو خرم پرویز کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ یو اے پی اے کے کالے قانون کے تحت بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے ان کی رہائش گاہ اور دفتر پر چھاپے کے بعدگرفتار کر لیاتھا ۔ورلڈ کشمیر اویئرنیس فورم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کالے قانون کو بھارتی فورسز کشمیر ی انسانی حقوق کے کارکنوں، سیاسی رہنمائوں اور صحافیوں کو ہراساں کرنے، ان پر حملوں اوران کی نظربندی کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ این آئی اے کے اس طرح کے اقدامات سیاسی ہیںاور کشمیریوں کی آواز کودبانے کی بھارتی حکومت کی کوشش کا حصہ ہیں۔بیان میں کہاگیا کہ جیسے جیسے کشمیری عوام کے خلاف بھارت کی گھنائونی کارروائیاں جاری ہیں کشمیریوں کے اپنے حق خودارادیت کے حصول کا عزم اور جدوجہد مزید پختہ ہوتا جارہا ہے ۔ ورلڈ کشمیر اوئیر نیس فورم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے خرم پرویز کی گرفتاری کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ادھرکشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے برسلز سے جاری ایک بیان میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے معروف علمبردار خرم پرویز کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہاکہ خرم پرویز مقبوضہ کشمیر میں طویل عرصے سے انسانی حقوق کی پامالیوں کی نشاندہی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔انہوںنے مزید کہاکہ بھارتی فورسز مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہیں۔ علی رضا سید نے کہاکہ ہم دنیا کے سامنے بھارت کا اصل بھیانک چہرہ بے نقاب کرتے رہیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو خرم پرویز کی رہائی کے لیے بھارت پر دبائو ڈالنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: