بھارت

بھارت :پولیس افسر کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد خاتون ڈاکٹر کی خودکشی

نئی دہلی: بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع ستارہ میں ایک سرکاری ہسپتال میں کام کرنے والی 28سالہ خاتون ڈاکٹر نے پولیس افسر کے ہاتھوں عصمت دری اور طویل ہراسانی کے بعد خودکشی کر لی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ خاتون ڈاکٹر کی لاش پھلٹن میں ہوٹل کے کمرے میں لٹکی ہوئی پائی گئی۔ ڈاکٹر نے اپنی ہتھیلی پر لکھے گئے خوکشی کے نوٹ میں کہا ہے کہ ستارا پولیس کے سب انسپکٹر گوپال بدانے نے گزشتہ پانچ مہینوں میں کئی بار اس کی عصمت دری کی جبکہ ایک سافٹ ویئر انجینئر پرشانت بنکر نے اسے مسلسل ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا۔نوٹ میں کہاگیا کہ پولیس افسر گوپال بدانے نے چار بار میری عصمت دری کی اوراس نے مجھے پانچ ماہ سے زائد عرصے تک ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر نے اس سے قبل کچھ پولیس افسران کے خلاف سب ڈویژنل پولیس آفیسر پھلٹن میں شکایت درج کروائی تھی لیکن کوئی واضح کارروائی نہیں کی گئی۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایاکہ خاتون ڈاکٹر پر متعدد مقدمات میں پوسٹ مارٹم اور گرفتار ملزمان کے میڈیکل ٹیسٹ کی رپورٹس کو تبدیل کرنے کے لیے دبائو ڈالا گیا تھا۔اس واقعے پر پورے بھارت میں غم و غصہ پایاجاتا ہے جہاںحزب اختلاف کے رہنمائوں نے دیویندر فڈنویس کی قیادت والی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ مہاراشٹر کانگریس کے ترجمان سچن ساونت نے کہا کہ یہ کیس موجودہ حکومت کے تحت امن و امان کی خراب صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔اس واقعے سے ایک بار پھر بھارت میں بار بارپیش آنے والے جنسی زیادتی،دوران حراست جنسی تشدداور سرکاری افسران کی ملی بھگت کے واقعات کی عکاسی ہوتی ہے جہاں متاثرین خاص طور پر عوامی شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کو منظم ہراسانی اور انصاف سے محرومی کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button