اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مقبوضہ جموں وکشمیر میں ماورائے عدالت قتل روکنے کے لئے مداخلت کریں: حریت کانفرنس

f07c6091-8afa-40ae-8d22-4f809e168394سرینگر 29 نومبر (کے ایم ایس) غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںکل جماعتی حریت کانفرنس نے 10 لاکھ سے زائدقابض بھارتی فوجیوں کی طرف سے حریت پسند کشمیری عوام کے انسانی حقوق کی بے دریغ خلاف ورزیوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے وائس چیئرمین غلام احمد گلزار نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں تنازعہ کشمیر کو 1947 میں تقسیم برصغیر کے منصوبے کا نامکمل ایجنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک بھارت کے غیر قانونی قبضے کو غیر مشروط طور پر ختم نہیں کیا جاتا، جنوبی ایشیا میں امن اور خوشحالی نہیں آئے گی اور خطے میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔ حریت رہنما نے بھارت کے متکبرانہ رویے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ انسانیت کا مسئلہ ہے کہ مقبوضہ علاقے کی غیر مستحکم صورتحال پر توجہ دی جائے جہاں تقریباً 10 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی میں لوگ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور وہ خاص طور پر سرینگر کے علاقوں حیدر پورہ اور رام باغ ہونے والے بہیمانہ قتل عام کے بعد اپنی زندگیوں کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ جی اے گلزار نے ماضی قریب میں اقوام متحدہ کی طرف سے مشرقی تیمور اور سوڈان میں تنازعات کے حل کے لئے اختیار کیے گئے سیاسی اور پرامن طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے پائیدارحل کے لیے حق خود ارادیت ایک معروف قانونی اور جمہوری فارمولا ہے۔انہوں نے حریت پسندکشمیر ی عوام کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے بہادر عوام نے بھارتی فوجی طاقت کو شکست دی ہے اور وہ عزم صمیم کے ساتھ تحریک مزاحمت کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔حریت رہنما نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میںقابض بھارتی فورسزکے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل ، وسیع پیمانے پر نسل کشی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور جبری گرفتاریاں روکنے کے لئے مداخلت کریں۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فوری طورپر حل کرنے کا مطالبہ کیا جن پر بھارت نے بھی دستخط کررکھے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: