الہ آباد ہائی کورٹ نے چھ مسلمانوں کے خلاف نظر بندی کے احکامات کالعدم قراردیے

لکھنو  29 نومبر (کے ایم ایس)بھارتی ریاست اترپردیش میںالہ آباد ہائی کورٹ نے چھ مسلمانوں کے خلاف نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت نظر بندی کے احکامات کو غیر قانونی قرار دیا جن پر اتر پردیش کے علاقے ماو¿ میں متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں کے سلسلے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عدالت نے نظربندی کے احکامات کو اس بنیاد پر غیر قانونی قرار دیا کہ ان کو نظربندی کی وجوہات کے بارے میں آگاہ نہیں کیاگیا اوراپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم نہیں کیاگیا جواین ایس اے کی دفعہ 22(5) کے تحت لازمی ہے۔ستمبر 2020 میں گرفتار کئے گئے چھ مسلمانوں عامر شبیر، شہریار، عبدالوہاب، آصف چندن، انس اور فیضان کو ہائی کور ٹ نے بری کردیا۔جسٹس سادھنا رانی اور جسٹس سنیتا اگروال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ نظربندی کے احکامات جاری کرنے والے حکام ریاستی حکومت کے سامنے نظربندوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کرنے میں تاخیر کی وضاحت نہیں کر سکے اور ریاستی حکومت کی طرف سے دی گئی وضاحت کافی نہیں ہے۔26 سالہ عامر شبیر ایک تاجر ہے جو ماو¿ میں بنارسی ساڑیوں کی دکان کا مالک ہے۔ انہوںنے 16 دسمبر 2020 کو ماو¿ میں ہونے والے سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران تشدد میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کر دیا ۔ انہوں نے کہاکہ مجھے غلط طریقے سے پھنسایا گیا تھا ۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب کی طرح میں نے بھی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیا لیکن یہ سب پرامن تھا۔
دریں اثناءالہ آباد ہائی کورٹ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 2019 میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مبینہ اشتعال انگیز تقریر سے متعلق ایک مقدمے میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم اور اسکالر شرجیل امام کی ضمانت منظورکرلی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: