کل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے کشمیری عوام پر ہندتوا ایجنڈ ہ مسلط کرنے پر مودی حکومت کی مذمت

سرینگر30 نومبر (کے ایم ایس)
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیری عوام پرتیزی سے مسلط کئے جانیوالے ہندوتوا ایجنڈے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں اضافی فورسز کی تعیناتی، مقامی بیوروکریسی سے مسلم ملازمین کی جبری برطرفی اور غیر کشمیریوں کو لاکھوں ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کے اجرا کو جموں وکشمیر میں آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کی مودی حکومت کے مذموم عزائم کا حصہ قراردیا۔ انہوں نے25لاکھ غیر کشمیریوں، جنہیں غیر قانونی طور پر ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں کو رہائشی پلاٹوں کی بڑے پیمانے پر الاٹمنٹ کی بھی مذمت کی۔انہوں نے مسلم ملازمین کی بلاجواز برطرفی پر تشویش ظاہر کی ۔حریت ترجمان نے دفعہ 370اور 35Aکی منسوخی کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کی کھلی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے کہاکہ ہمارا واحد مطالبہ حق خود ارادیت ہے جس کاوعدہ اقوام متحدہ نے کشمیری عوام سے کیا گیا ہے تاکہ آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے کشمیری عوام اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری مزاحمتی تحریک دفعہ 370کی بحالی سے بڑھ کر ہے تاہم بھارت کے پاس اپنے مذموم عزائم کے لیے متنازعہ علاقے کے قوانین کو تبدیل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔حریت ترجمان نے کہا کہ بھارت اپنے مذموم منصوبوں کو کشمیر ی عوام سے چھپا نہیں سکتا جہاں غیر مقامی تاجروں، ملازمین اور مزدوروں کی تعداد مقامی آبادی سے بڑھ گئی ہے۔ نام نہاد حلقہ بندی کمیشن کی طرف سے جموں خطے میں اسمبلی کی نشستوں کی تعداد میں مجوزہ اضافے کامقصد بی جے پی کی مجموعی نشستوں کی تعداد بڑھانا ہے تاکہ مقبوضہ علاقے میں ہندوتوا ایجنڈے کے نفاذ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ بھارت کی طرف سے مسلم اکثریتی متنازعہ علاقے میں زبردستی ہندوتوا ایجنڈے کو مسلط کرنے کا سخت نوٹس لیں اور بھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کی نسل کشیُ اور انسانی حقوق کی پامالیاں رکوانے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل میں مدد کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: