مقبوضہ جموں و کشمیر

کشمیر بھارتی فوجیوں کے کنٹرول میں ہے: دلجیت دوسانجھ نے سچ اگل دیا

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں امن ،ترقی اورجمہوریت کے مودی حکومت کے بلند وبانگ دعوئوں کی قلعی دلجیت دوسانجھ کے اس ایک جملے سے کھل گئی ہے کہ” کشمیر بھارتی فوجیوں کے کنٹرول میں ہے۔”
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی گلوکار اوراداکاردلجیت دوسانجھ نے گزشتہ روز ممبئی میں اپنے ایک کنسرٹ کے دوران چند دن پہلے اپنے کشمیر دورے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر جنت ارضی ہے۔ وہاں ضرور جایئے۔ یہ ہمارے فوجی بھائیوں کے کنٹرول میں ہے۔ اس بیان پر وہ شدید تنقیدکی زد میں ہیں۔ دلجیت دوسانجھ نے کشمیر کی تعریف کرتے ہوئے اسے جنت ارضی قرار دیا اور مداحوں سے اس کا دورہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے پربھارتی فوج کا کنٹرول ہے۔ اپنے کنسرٹ کے دوران دلجیت نے مداحوں سے پوچھا کہ کیا آپ کشمیر گئے ہیں؟ پھر انہوں نے کہا کہ براہ کرم کشمیر کا دورہ کرو۔ یہ واقعی زمین پر جنت ہے۔ میں نے خود اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ اس جگہ کی خوبصورتی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اپنے کشمیر دورے کی تصاویر انسٹاگرام پر جاری کی تھیں جن میں وہ ایک درگاہ، مندر اور گردوارے کا دورہ کرتے نظر آرہے تھے۔ پھر انہوں نے کشمیری قہوہ پیا اور کیپشن میں لکھا کہ کشمیر، زمین پر جنت ہے۔اگرچہ دلجیت دوسانجھ نے سچ اگل دیا ہے تاہم انہیںاس بیان پر انتہاپسندوں کی شدید تنقید کا سامنا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کا دورہ کرنے والے ہرانسان کو وہاں فوج ہی فوج نظرآتی ہے اوروہ چاہتے ہوئے بھی سچ چھپا نہیں سکتا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں اس وقت بھی دس لاکھ سے زائد بھارتی فوجی اورپیرا ملٹری فورسز کے اہلکار موجود ہیں جو تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کے لئے ہرروزبے گناہ کشمیریوں کو قتل اورگرفتارکرتے ہیں اورانہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔علاقے کے چپے چپے پر بھارتی فوجیوں کی موجودگی کو کوئی بھی ذی شعور انسان نظرانداز نہیں کرسکتا ۔ دلجیت دوسانجھ نے بھی وہاں جو دیکھا وہی بتادیا ۔ سچ بیان کرنے پر کسی کو تلملانے کی ضرورت نہیں بلکہ بھارت سمیت عالمی برادری کو ان حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کو عوامی امنگوں کے مطابق حل کرنا چاہیے تاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میںحقیقی امن قائم ہوسکے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button