بھارت میں انتہا پسندی نے بالی ووڈکو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا

ممبئی:بالی ووڈ اداکارہ کرینہ کپور کے اس انکشاف سے کہ ان کے شوہر سیف علی خان پر حملہ کرنے والے نے کچھ بھی نہیں چرایا، اس بات کو تقویت ملی ہے کہ حکمران بی جے پی اور آر ایس ایس کے گٹھ جوڑ نے عدم برداشت اور انتہا پسندی کے خطرناک پھیلائو کو اس قدر پروان چڑھایا ہے کہ بھارتی سنیما بھی اسے محفوظ نہیں ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سیف علی خان پر وحشیانہ حملہ کئی پرتشدد واقعات کے بعد ہواجس میں سیاستدان بابا صدیق کا قتل اور سلمان خان کی رہائش گاہ کے قریب فائرنگ شامل ہے، دونوں حملے لارنس بشنوئی گینگ کی کارستانی ہے۔سیف علی خان پر حملہ بھارتی شاعر کمار وشواس کی جانب سے بیٹے کا نام تیمور رکھنے پر سیف کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بنانے کے چندروز بعد ہوا جسے وہ ہندو جذبات کی توہین قرار دیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے شبہات پیداہوئے ہیں کہ اس حملے کے پیچھے ہندوتوا سے متاثرہ بشنوئی گینگ جیسے منظم جرائم پیشہ گروہ ہوسکتے ہیں ۔مبصرین نے خبردارکیا ہے کہ یہ واقعات ایک تشویشناک سماجی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں نفرت پر مبنی نظریات اور سکھوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے والا تشدد تیزی سے معمول بنتا جا رہاہے۔ اس طرح کے واقعات قانون کی حکمرانی کی تباہی اور بھارتی معاشرے کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کرینہ کپور خان نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے جمعرات کو علی الصبح اپنی باندرہ رہائش گاہ پر حملے کے دوران اپنے شوہر سیف علی خان کو بار بار چھرا گھونپتے ہوئے دیکھا۔کرینہ نے پولیس کو بتایا کہ حملہ آور جارحانہ تھا، میں نے اسے سیف پر بار بار حملہ کرتے دیکھا… ہماری ترجیح اسے ہسپتال پہنچانا تھی۔کرینہ نے اپنے خوف اور صدمے کو شیئر کرتے ہوئے کہاکہ حملے کے بعد میں گھبرا گئی تھی، اس لیے کرشمہ مجھے اپنے گھر لے گئی۔کرینہ نے اس بات پر زور دیا کہ حملے کی پرتشدد نوعیت کے باوجود گھر سے کوئی چیز چوری نہیں ہوئی۔حملہ آور نے کچھ بھی نہیں چرایا۔ سیف نے ہمارے چھوٹے بیٹے جہانگیر کو بچانے کے لیے مداخلت کی اور حملہ آور اس تک پہنچنے میں ناکام رہا۔ سیف نے بچوں اور خواتین کو بچانے کی کوشش کی۔







