جموں وکشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ علاقہ ہے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرکے مختلف علاقوں میں پوسٹر چسپاں کئے گئے ہیں جن میں کہاگیا ہے کہ جموں وکشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کے سیاسی مستقبل کا تعین اقوام متحدہ کی منظورشدہ قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے طے ہونا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کشمیرپیس فورم اوردیگر حریت پسند تنظیموں کی طرف سے چسپاں کئے گئے پوسٹروں میں کہاگیا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت نے اپنی انتخابی مہم کے دوران لوگوں سے دفعہ 370 اور35Aکی بحالی ، کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کی منسوخی ، پاک بھارت مذاکرات کی وکالت، علاقائی خودمختاری اورآئینی ضمانتوں کے لئے کوششوں ، یکساں سول کوڈ اورشہریت ترمیمی قانون کی مخالفت اورعلاقائی ترقی کے وعدے کئے تھے لیکن اب وہ بی جے پی حکومت کی بی ٹیم اورحلیف بن کر رہ گئی ہے اوراپنے وعدوں سے مکر گئی ہے۔ پوسٹروں میں کہاگیاہے کہ عمر عبداللہ کی طرف سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف آر ایس ایس جیسی ہندوتوا تنظیموں کے کشمیر دشمن ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے جو ان کے اپنے انتخابی منشور سے غداری ہے۔ پوسٹروں میں عالمی برادری سے مطالبہ کیاگیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا نوٹس لے اورتنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اورکشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔








