نام نہاد یوم جمہوریہ سے قبل مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی بھاری تعیناتی

سرینگر :26 جنوری کوبھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ سے قبل سرینگر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے دیگر علاقوں میں بھاری تعداد میںبھارتی فورسز کوتعینات کیاگیا ہے جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے مسلسل انکار کے خلاف بطور احتجاج اس دن یوم سیاہ منانے کی اپیل کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری اتوار کو بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے تاکہ عالمی برادری کو یہ یاد دلایا جا سکے کہ بھارت نے کشمیری عوام کو ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت سے مسلسل محروم رکھا ہواہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈو کیٹ عبدالرشید منہاس نے آج سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت کو اپنا یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق نہیں کیونکہ وہ اپنی فوجی طاقت کے بل پرجموں و کشمیر پر مسلسل قابض ہے۔حریت ترجمان نے سرینگر میں گا ئوکدل قتل عام کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ گا ئوکدل اور اس طرح کے دیگر قتل عام جلیانوالہ باغ کے بدنام زمانہ قتل عام کی یاد تازہ کر تے ہیں جسے اس وقت کی برطانوی حکومت نے انجام دیا تھا۔بھارتی فوجیوں نے21جنوری 1990کو سرینگر کے علاقے گائو کدل میں پرامن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کرکے 50سے زائد نہتے شہریوں کو شہید اور سیکڑوں کو زخمی کردیاتھا۔نام نہاد یوم جمہوریہ سے قبل سرینگر کی تمام بڑی سڑکوں اور گلیوں پر بھارتی فوج، پولیس اور پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں کو تعینات کیاگیا ہے جبکہ بکتر بند موبائل گاڑیاں مقامی لوگوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے شہر میں گشت کررہی ہیں۔






