بھارت کو ہندوتوا کے رنگ میں رنگنے سے جمہوریت اور اقلیتوں کے حقوق کو خطرہ لاحق ہے
نئی دہلی: سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی حکومت میں اداروں کو ہندوتوا کے رنگ میں رنگنے کی ایک خطرناک مہم جاری ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہندوتوا کے نظریے کو منظم طریقے سے مسلط کرنے سے ملک کا سیاسی اور سماجی تانا بانا تبدیل ہورہا ہے جس سے مذہبی اقلیتیں تیزی سے پسماندہ اور کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق ہندوتوانے بھارت کی عدلیہ اور مسلح افواج تک اپنی رسائی کو بڑھا دیا ہے جس کے انصاف اور جمہوریت کے لیے تباہ کن نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ بھارتی عدلیہ دائیں بازو کی مودی حکومت کا آلہ کار بن چکی ہے۔ تجزیہ کاروں نے اہم فیصلوں کا حوالہ دیا جن میں حجاب پر پابندی، بابری مسجد کا انہدام اور دفعہ 370کی منسوخی شامل ہے اوران فیصلوںکو ہندوتوا پر مبنی تعصب قرار دیاگیا ہے۔ یہ فیصلے مودی حکومت کے ایجنڈے کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں، ان میںانصاف کو پس پشت ڈالا گیا ہے اور اقلیتوں کے حقوق کو مجروح کیاگیا ہے۔ہندوتوا کا ایجنڈا اقلیتوں خاص طوپر مسلمانوں کے ثقافتی ورثے کو مٹا کر ہندو بالادستی کو مسلط کرنا بھی ہے۔ مسلمانوں کے ناموں سے منسوب شہروں اور علامتوں کا نام تبدیل کرنا اور تاریخ کو دوبارہ لکھنا بھارت کو ایک ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مودی حکومت کی پالیسیاں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ثقافتی جنگ چھیڑ رہی ہیں اوریہ پالیسیاںان کی زندگیوں، حقوق اور آزادیوں کے لئے خطرہ ہیں۔بین الاقوامی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کو ہندوتوا کے رنگ میں رنگنے سے نہ صرف اس کی جمہوریت بلکہ عالمی امن کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی تاکہ بھارت کو ہندو انتہا پسندی پر مبنی فسطائی ریاست بننے سے روکا جاسکے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوتوا کے رنگ میں رنگنے سے مراد بھارت کے سیاسی، سماجی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی نظریاتی تبدیلی کو ہندوتوا کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔




