مودی کے بھارت میں کسانوں کا استحصال مسلسل جاری
زمینوں پر قبضے اور کسانوں کو درپیش مسائل شدت اختیار کر گئے
نئی دلی:
بھارتی ریاست پنجاب میں سرحدی باڑ کی متنازعہ پوزیشن اور کسانوں کو درپیش مشکلات نے ایک بار پھر ریاستی پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مبصرین اس صورتحال کو زرعی اور معاشی دبائو کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے حال ہی میں نئی دلی میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے ملاقات کی، جس میں سکیورٹی اور زرعی امور زیر بحث آئے۔ ملاقات میں بھارت-پاکستان سرحد کے ساتھ 532کلومیٹر طویل باڑ کی ازسرنو ترتیب کو ایک اہم معاملہ قرار دیا گیا۔رپورٹس کے مطابق سرحدی باڑ کئی مقامات پر بھارتی حدود کے اندر 2سے 3کلومیٹر تک پیچھے واقع ہے، جس کے باعث ہزاروں ایکڑ زرعی زمین باڑ کے پار چلی گئی ہے اور مقامی کسانوں کے لیے قابلِ کاشت نہیں رہی۔ اس صورتحال کے باعث کسانوں کوشدید مشکلات کا سامنا ہے۔متاثرہ کسانوں کو بی ایس ایف کی سخت نگرانی، شناختی کارڈ کی لازمی شرط، محدود اوقات میں کھیتی باڑی، اور فصلوں کی اونچائی پر پابندی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ریاستی سطح پر کیے گئے اعلانات اور یقین دہانیاں تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکیں، جس کے باعث کسانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالنے کے لیے واضح اور قابلِ عمل اقدامات ناگزیر ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیوں سے نہ صرف زرعی پیداوار متاثر ہورہی ہے بلکہ مقامی آبادی پر معاشی دبائو کابھی باعث بن رہی ہیں۔ بھگونت مان نے باڑ کو زیرو لائن کے قریب منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تاہم امت شاہ نے س پر صرف عمومی یقین دہانی ہی کرائی۔ وزیراعلیٰ نے مودی حکومت کی طرف سے متعارف کرائے گئے سیڈز بل 2025 ، سیڈ ایکٹ 2026پرکڑی تنقید کی ، جس کے تحت کسانوں کے بیج محفوظ رکھنے اور تبادلے کے روایتی حقوق ختم ہو جائیں گے، نجی کمپنیوں پر انحصار بڑھے گا، ریاستی اختیارات محدود ہوں گے اور غیر آزمودہ غیر ملکی اقسام کو بغیر مکمل جانچ کے متعارف کرایا جا سکے گا۔پانی کے معاملے پر بھگونت مان نے واضح کیا کہ پنجاب کے پاس ایک قطرہ بھی اضافی پانی نہیں ہے خاص طور پر جب ستلج، راوی اور بیاس میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے امت شاہ سے 9031کروڑ روپے کے دیہی ترقیاتی فنڈ کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا، مگر انہوں نے صرف پہلی قسط کی یقین دہانی کرائی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان مسائل کا بروقت اور شفاف حل نہ نکالا گیا تو خطے میں بے چینی مزید بڑھ سکتی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ سرحدی باڑ، زرعی پالیسیوں اور وسائل کی تقسیم سے متعلق موجودہ صورتحال ایک وسیع تر پالیسی رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جس میں بھارتی کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کیاجارہاہے ۔





