مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر : آغا سید حسن کا شراب اور منشیات کے پھیلائو پر اظہار تشویش

سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور انجمن شرعی شیعیاں کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے وادی کشمیر میں شراب اور منشیات کے پھیلائو پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق آغا سید حسن نے بڈگام میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کہا کہ وادی میں شراب کا پھیلائو نہ صرف غیر اسلامی ہے بلکہ یہ اخلاقی طورپر بھی غلط ہے ۔ انہوںنے بھارتی سیاحوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں قدرتی مناظر کا نظارہ کرنے کیلئے ضرور آئیں لیکن انکا یہاں کھلے عام شراب نوشی کرنا ناقابل قبول ہے۔انہوںنے کہا کہ اگر سیاحوں کو شراب پینی ہے تو وہ اپنے شہروں میں یہ عمل کریں۔
انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر کی فلاح و بہبود اور اس کی تہذیب و ثقافت کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے اور شراب نوشی جیسی سرگرمیاں نہ صرف مذہبی اصولوں کے خلاف ہیں بلکہ معاشرتی امن و سکون کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔آغا حسن نے سرینگر میں سیاحوں سے مودبانہ اپیل کرنے والے کشمیری نوجوانوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری نوجوانوں نے سرینگر کے معروف لال چوک میں ایک بورڈ لگایا تھا جس پر سیاحوں سے مودبانہ درخواست کی گئی تھی کہ وہ عوامی مقامات پر شراب اور منشیات کا استعمال نہ کریں۔انہوں نے کہاکہ یہ ایک اخلاقی اور تہذیبی اپیل تھی تاکہ کشمیری معاشرتی اقدار کا تحفظ کیا جا سکے اور سیاحوں کو کشمیر کی قدرتی خوبصورتی کا مکمل احترام کرنے کی ترغیب دی جا سکے تا ہم اس بورڈ کو جموں و کشمیر پولیس نے ہٹا دیا اور اس اقدام کے پیچھے کھڑے نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ آ حسن نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں اخلاقی اقدار کی حفاظت کے لئے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوششوں کو روکا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل کشمیر کی ثقافتی شناخت کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش ہے، جسے کشمیری ہر صورت میں مسترد کریں گے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button