مقبوضہ جموں وکشمیر ہائیکورٹ نے زوجیلا کے نازک ماحولیاتی نظام کے تحفظ کا حکم دیا

سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہائیکورٹ نے خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کی حفاظت کے لیے زوجیلا پاس کے زیرو پوائنٹ اور اس کے آس پاس برفانی سکوٹروں اور برف گاڑیوں کے استعمال سمیت تمام تجارتی سرگرمیوں پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے سنگین ماحولیاتی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے پولی تھین بیگز اور دیگر پلاسٹک مواد کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ہائیکورٹ نے یہ فیصلہ دراس علاقے کے ایک کونسلر عبدالواحد کی طرف سے دائر مفاد عامہ کی عرضی کے جواب میں دیا ہے جنہوں نے ماحولیاتی طور پر حساس زوجیلا پاس علاقے میں جاری غیر قانونی سرگرمیوں کو اجاگر کیا۔درخواست گزار نے استدلال کیا کہ علاقے میں بڑے پیمانے پر جاری سیاحت اور غیر قانونی تجارتی سرگرمیاں خطے کی منفرد حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچا رہی ہیں، یہ تمام سرگرمیاں نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں بلکہ اس سے جنگلی حیات بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائلڈ لائف وارڈن کارگل نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور ہمالیائی بھورے ریچھ اور لمبی دم والے مارموٹ پر پڑنے والے منفی اثرات کی نشاندہی کی ہے۔
عدالت نے انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ این جی اوز اور سماجی تنظیموں کے ساتھ مل کر علاقے میں صفائی کی ایک وسیع مہم شروع کرے۔
گاندربل اور کرگل کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کو حکم کا نفاذ یقینی بنانے اور 15 اپریل کو ہونے والی اگلی سماعت سے قبل اس حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔







