مظفر آباد میں منعقدہ سیمینار میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی مظلوم خواتین کی حالت زار کو اجاگرکیاگیا
مظفر آباد: انسٹیٹیوٹ آف ڈائیلاگ، ڈیولپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز (IDDDs)نے ڈگری کالج پٹیکہ اوریونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیرکے اشتراک سے مظفرآباد میں ایک سیمینار کا انعقاد کیاجس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی مظلوم خواتین کی حالت زار کو اجاگرکیاگیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ”بھارتی قبضے میں جکڑی کشمیری خواتین اور بچوں کی نہ رکنے والی جدوجہد” کے زیر عنوان سیمینار میں کشمیر خواتین کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حاصل حقوق کو زیر بحث لایاگیا۔سیمینار میں اساتذہ، پروفیسرز، اسکالرز، سیاسی رہنمائوں، سول سوسائٹی کے اراکین اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔پرنسپل ڈگری کالج پٹیکہ ڈاکٹر سکینہ نے سیمینار کا افتتاح ایک جامع اور تحقیقی تقریر سے کیاجس میں خواتین کے قومی اور بین الاقوامی کردار پر روشنی ڈالی گئی۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و جبر کا شکار خواتین کے لئے آواز بلند کر سکیں۔ ویمن ڈویلپمنٹ کے کوآرڈینیٹر امتیاز اعوان نے کہا کہ تعلیم یافتہ خواتین مسئلہ کشمیر کی سب سے مضبوط سفیر ثابت ہو سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں اور یہاں کی تعلیم یافتہ خواتین قومی اور عالمی سطح پر بیانیہ تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔منتخب کونسلر اور سیاسی رہنمامس سکینہ نے کہا کہ کشمیری خواتین تمام تر مشکلات کے باوجود ہر شعبے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔انہوں نے خواتین کو سیاسی، تعلیمی اور میڈیا کے شعبوں میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی تاکہ مسئلہ کشمیر کو اجاگرکیاجا سکے۔ڈائریکٹر آئی ڈی ڈی ڈی ڈاکٹر ولید رسول نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین پر جاری بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگرکیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیری خواتین کو جسمانی، ذہنی اور معاشرتی استحصال کا نشانہ بنا رہا ہے جہاں زیادتی، جبری گمشدگیاں اور غیر قانونی گرفتاریاں جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس وقت 13 کشمیری خواتین غیر قانونی طور پر بھارت کی تہاڑ جیل میں نظربند ہیںجن میں آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے آسیہ اندرابی کے خلاف دس ہزارصفحات پر مشتمل جعلی مقدمہ تیار کیا جو بھارت کے ریاستی جبر کی ایک واضح مثال ہے۔ڈاکٹرولید رسول نے آزاد کشمیر کی تعلیم یافتہ خواتین سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی مظلوم بہنوں کی آواز بنیں۔مقررین نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، میڈیاہائوسز اور قانونی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین پر ہونے والے مظالم کا نوٹس لیں اور بھارت کو جوابدہ ٹھہرائیں۔







