پاکستان کی عوامی ایکشن کمیٹی اور اتحاد المسلمین کو 5 سال کیلئے غیر قانونی قرار دینے کے بھارتی فیصلے کی مذمت
اسلام آباد:
پاکستان نے بھارتی حکام کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی اور جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کو پانچ سال کے لئے غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ترجمان دفترخارجہ نے ایک بیان میں ایک بیان میں کہاہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت ممتاز سیاسی اور مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق کررہے ہیں جبکہ جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کی بنیاد بھی ایک اور قابل ذکر سیاسی و مذہبی رہنما مولانا محمد عباس انصاری نے رکھی تھی ۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکام کے اس فیصلے سے کالعدم قراردی گئی کشمیری سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی تعداد بڑھ کر 16ہوگئی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں پر پابندی لگانا مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکام کے سخت گیر رویے کا ایک اور مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی سرگرمیوں اور اختلاف رائے کو دبانے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے، یہ جمہوری اصولوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی سراسر بے توجہی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ترجمان نے بھارتی حکومت سے کہاکہ وہ کشمیری سیاسی جماعتوں پر عائد پابندیاں ہٹائے، تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کروائیں۔






