نریندر مودی کے بھارت میں مسلمانوں کا معاشی قتل، اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ جاری
نئی دلی:
مودی کے بھارت میں مسلمانوں کا معاشی قتل جاری ہے،بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندوتوا سوچ پورے معاشرے میں زہر اگل رہی ہے، بھارت میں مسلمانوں کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہونے کے بعد اب انتہاپسند ہندوں کی جانب سے معاشی بائیکاٹ کا نیا حربہ سامنے آیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے سے انتہاپسند ہندوئوں کی جانب سے مسلمانوں کے اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ جاری ہے،سوشل میڈیا پر مسلمان دکانداروں اور ہوٹل مالکان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جا تا ہے۔بھارتی میڈیا یہ پیروپیگنڈہ کر رہاہے کہ مسلمان دکاندار کھانوں میں گائے کے گوشت، تھوک اور غلاظت کی ملاوٹ کرتے ہیں۔عالمی میڈیا نے رپورٹ کے مطابق اس منفی پروپیگنڈے کے بعد مقامی ہندوتوا تنظیموں اور سیاست دانوں کی جانب سے مسلمانوں کو دکانیں کرائے پر نہ دینے کا مطالبہ بھی سامنے آیا، اس گھٹیا پروپیگنڈے کے ذریعے مسلمانوں سے ان کا ذریعہ معاش چھین کر انہیں بے روزگار کیا جا رہا ہے۔ریاست اترپردیش میں ایک منظم سازش کے تحت حکم جاری کیا گیا کہ دکانیں باقاعدہ نام کے ساتھ کھولی جائیں، اس مہم کا مقصد ہندوئوں کو مسلمانوں کی دکانوں سے کچھ نہ خریدنے پر قائل کرنا تھا۔مسلمانوں کیخلاف اس معاشی بائیکاٹ مہم میں ہندو مذہبی رہنما بھی ملوث ہیں،ہندو مذہبی رہنما سوامی یشویت مہاراج نے اس مہم کی پر زور حمایت کی، یہ سلسلہ بھارت کی اترا کھنڈ، مدھیہ پردیش، راجستھان اور اتر پردیش جیسی ریاستوں تک پھیلا ہوا ہے،ان ریاستوں میں چھوٹے مسلم دکانداروں اور سبزی فروشوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اتر پردیش میں بے شمار مذبح خانے غیر قانونی قرار دے کر بند کر دیے گئے ہیں۔بھارت میں نریندر مودی کے برسر اقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کے ذریعہ معاش پر حملہ کیا گیا، دنیا بھر میں انسانی حقوق پر واویلا کرنے والی تنظیموں کو بھارت میں مسلمانوں کیخلاف اس معاشی بائیکاٹ پر آواز اٹھانا چاہیے۔






