چیئرمین کشمیرکونسل ای یو کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی صدر ٹرمپ کی پیشکش کا خیرمقدم
برسلز:
کشمیرکونسل ای یوکے چیئرمین علی رضا سید نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق علی رضا سید نے ایک بیان میں کہاہے کہ امریکی صدر کو چاہیے کہ فوری طور پر اپنی پیشکش پر عمل درآمد شروع کریں تاکہ مسئلہ کشمیرکو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیاجاسکے۔انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور مستقل حل تک جنوبی ایشیا میں امن و خوشحالی قائم نہیں ہوسکتی۔ کشمیریوں کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت ہٹ دھرمی کے بجائے امریکی ثالثی کو قبول کرے کیونکہ یہی اس کے مفاد میں ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم بند کرے، قیدیوں کو رہا کرے اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دی جائے۔انہوں نے کہاکہ حالیہ دنوں بھارت نے پہلگام واقعے کی آڑ میں کشمیریوں کے بہت سے رہائشی مکانات کو تباہ کیا، خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا اور 2800سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام کشمیریوں کو رہا کیا جائے اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق اور ان کی شہری آزادیوں کو بحال کیا جائے۔ علی رضا سید نے کہاکہ بھارت مستقبل قریب میں بہار کے ریاستی انتخابات کو جیتنے کے لیے اور دیگر سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ایسے حربے استعمال کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے خود ہی پہلگام حملہ کروایا اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے بغیر ہی اس کا الزام پاکستان پر لگاکر آزاد کشمیر اور پاکستان کے پر رات کی تاریکی میں حملے کردیے۔ بھارت نے حالیہ برسوں کے دوران مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی ہے اورمقبوضہ علاقے کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کیلئے غیر کشمیری ہندوئوں کو کشمیر کے ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس جاری کئے ۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے مابین مستقل جنگ بندی اور امن خطے کے بہت ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل سب سے اہم ہے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے بارے میں کہاکہ پانی کا مسئلہ بھی مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ بھارت آئندہ کبھی اس معاہدے کو معطل نہ کرسکے۔ انہوں نے عالمی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ حقائق کو تلاش کرنے والے اپنے مشن مقبوضہ کشمیر بھییجے تاکہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جاسکے۔





