IndoPakWar

نیو کلیئرسیکورٹی ماہرین کا جوہری تحفظات میں بھارت کی مسلسل ناکامیوں پر اظہار تشویش

اسلام آباد،: نیوکلیئر سیکیورٹی ماہرین نے بھارت کی جوہری سلامتی کی مسلسل ناکامیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی تابکار مواد کی چوری اور اسمگلنگ کے واقعات کی تحقیقات کرے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران یورینیم، کیلیفورنیا اور دیگر تابکار مادوں کے ایک درجن سے زائد تصدیق شدہ کیسزسامنے آئے ہیں، جو اس کے جوہری تحفظات میں واضح خامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ تازہ واقعہ ریاست اترا کھنڈ کے دارلحکومت دہرادون پیش آیا جہاں پانچ افراد کو ایٹمی ڈیوائسز سمیت پکڑا گیا جو بابااٹامک ریسرچ سنٹر سے چوری کیے گئے تھے۔ اسی طرح 2021 میں تین الگ الگ کیسز میں کیلیفورنیئم کی اسمگلنگ شامل تھی ۔
ماہرین اور عالمی برادری نے ان خطرناک مواد کی نقل و حرکت پر قابو پانے میں بھارت کی ناکامی پر خطرے کا اظہار کیا ہے۔ جوہری پالیسی کے ایک معروف تجزیہ کار نے کہایہ واقعات بھارت کے اندر استعمال والے جوہری مواد کی بڑھتی ہوئی اور خطرناک بلیک مارکیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔یاد رہے کہ بھارت نے حالیہ جنگ میں انتہائی خفت اٹھانے کے بعد پاکستان کیخلاف ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے ایک بے بنیاد پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہے ۔ بوکھلاہٹ کا شکار بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایک بیان میں پاکستان کے جوہری ہتھیاروںکو غیر محفوظ قرار دیکر انہیں آئی اے ای اے کی نگرانی میں دینے کی بات کی۔تاہم پاکستانی دفتر خارجہ نے راج ناتھ سنگھ کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہاتھوںمیں ہیں ، البتہ جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے حوالے سے بھارت میں جو پے در پے واقعات پیش آرہے ہیں ، عالمی سطح پر اسکی فوری تحقیقات کی ضرورت ہے۔ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ بھارت میں بار بار ہونے والے یہ واقعات نہ صرف علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ جوہری مواد کے عالمی پھیلاوکے خدشات کو بھی بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی نگران اداروں، خاص طور پر آئی اے ای اے پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے اندر کام کرنے والے جوہری اسمگلنگ کے غیر قانونی نیٹ ورک کی فوری اور مکمل تحقیقات شروع کریں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button