بھارت

بھارت :طلباء تنظیموں، سیاسی جماعتوں کی مسلمان پروفیسر کی گرفتاری کی مذمت

نئی دہلی:بھارت میں اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کی گرفتاری پر طلباء تنظیموں اورسیاسی جماعتوں میں شدید غم و غصہ پایاجاتا ہے جنہوں نے اسے تعلیمی آزادی اور آزادی اظہار پر ایک کھلاحملہ قرار دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن اور اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا سمیت طلباء تنظیموں نے پروفیسر کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان پر ملکی خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے اور دشمنی کو فروغ دینے کے الزامات کو سیاسی اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ طلباء نے گرفتاری کو تعلیمی اداروں میں اختلاف رائے کو جرم قراردینے اور تنقیدی آوازوں کو دبانے کی کوشش قراردیا۔
دریں اثناء کانگریس، سی پی آئی ایم، اے آئی ایم آئی ایم اور ترنمول کانگریس سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے بھی پروفیسر محمود آباد کا دفاع کرتے ہوئے پولیس کارروائی کی مذمت کی ہے۔پروفیسرنے جن کاکہناہے کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑکر پیش کیا گیا ہے، کہا کہ وہ اپنے اظہاررائے کے حق کو استعمال کررہے ہیں جس کی ضمانت آئین میں دی گئی ہے۔ اشوکا یونیورسٹی کے طلبا اور فیکلٹی ممبران نے پروفیسر محمود آباد کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کو تعلیمی آزادی کے منافی قرار دیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button