بھارت:پروفیسر علی خان محمود کی عبوری ضمانت منظور
نئی دلی: بھارتی سپریم کورٹ نے ہریانہ کی اشوکا یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر علی خان محمود کی عبوری ضمانت منظور کی ہے جنہیں پولیس نے آپریشن سندور کے حوالے سے ایک بیان پر گرفتار کیا تھا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کے سنگھ پر مشتمل بنچ نے ہریانہ کے ڈائریکٹر جنرل پولیس کو حکم دیا کہ وہ معاملے کی چھان بین کیلئے 24گھنٹوں کے اندر اندر ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیں۔ 42سالہ پروفیسر کو بی جے پی یودا مورچہ ہریانہ کے جنرل سیکرٹری یوگیش کی شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا ۔سونی پت کی عدالت نے منگل کے روز انہیں 14روز کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا۔ پروفیسر علی خان محمود آباد نے لکھا تھا”مجھے یہ دیکھ کر مسرت ہے کہ دایاں بازو کے کئی مبصرین کرنل صوفیہ قریبی کی واہ واہ کر رہے ہیں لیکن انہیں ایسے ہی جذبے سے ہجومی تشدد ، بلڈوز اور بی جے پی کی نفرت بھڑکاﺅ مہم کا شکار بننے والوں کے لیے بھی آواز بلند کرنی چاہیے۔






