مودی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت کی اسٹریٹجک خود مختاری خطرے میں ہے: کانگریس صدر

نئی دہلی : بھارت میں کانگریس پارٹی کے صدر ملکارجن کھڑگے نے روسی تیل کی خریداری سے متعلق امریکہ کی جانب سے دی گئی عارضی رعایت کے معاملے پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت کی اسٹریٹجک خود مختاری اور قومی اقتدار اعلیٰ شدید خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ملکارجن کھڑگے نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ کسی بھی خود مختار ملک کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اسے اپنے توانائی کے فیصلوں کے لیے کسی دوسرے ملک سے اجازت لینی پڑے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے بھارت کو 30 دن کی عارضی رعایت دے کر روسی تیل خریدنے کی اجازت دینا اس بات کی واضح علامت ہے کہ مودی حکومت مسلسل اپنی سفارتی قوت کھوتی جا رہی ہے۔بھارت کی اسٹریٹجک خود مختاری اور قومی اقتدارِ اعلیٰ شدید خطرے میں ہیں کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ایپسٹین فائلز اور اڈانی معاملے پر بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ کانگریس صدرنے کہاکہ اس طرح کی زبان عام طور پر ان ممالک کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں، نہ کہ ایسے ملک کے لیے جو عالمی نظام میں ایک ذمہ دار اور مساوی شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بھارت کی خارجہ پالیسی پر بیرونی دباو¿ بڑھ رہا ہے۔ حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے کہ کیا واقعی بھارت کو روسی تیل خریدنے کے لیے امریکہ سے اجازت لینا پڑ رہی ہے اور اگر ایسا ہے تو یہ ملک کی خود مختاری کے لیے تشویش ناک صورت حال ہے۔کانگریس صدر نے کہا کہ کئی مواقع پر ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اہم فیصلوں کا اعلان بیرونی قیادت کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ بندی یا تجارتی معاہدوں جیسے معاملات کا اعلان دوسرے ملک کے رہنما کریں اور بھارتی حکومت خاموش رہے تو اس سے ملک کی سفارتی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران مودی جی کے دوست مسٹر ٹرمپ سب سے پہلے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں، ہم نہیں۔ وہ کم از کم 100 مرتبہ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے جنگ رکوائی مگر وزیر اعظم خاموش رہتے ہیں۔کھڑگے نے کہا کہ حکومت نے ایران سے تیل کی خریداری کے معاملے پر بھی دباو¿ قبول کیا اور روسی تیل کی درآمدات میں بھی کمی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر توانائی، تجارت، ڈیٹا اور دیگر اہم شعبوں میں بھارت کے فیصلے بیرونی دباو¿ کے تحت ہوں تو اس سے طویل مدتی قومی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔






