حریت رہنمائوں اور کارکنوں کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی شدید مذمت

سرینگر:کل جماعتی حریت کانفرنس نے حریت رہنمائوں ، کارکنوں اور دیگر کشمیری سیاسی نظربندوں کی بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی جیلوں میں طویل عرصے سے مسلسل غیر قانونی نظربندی کی شدیدمذمت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے اپیل کی ہے کہ وہ حریت رہنمائوں اور دیگر ہزاروں کشمیری نظربندوں کی جلد رہائی کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائیں جو طویل عرصے سے غیر قانونی طورپرنظربند ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت اپنے تحقیقاتی اداروں کے ذریعے حریت رہنمائوں کو جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کی مخالفت اور کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی حمایت کرنے پر انتقامی کارروائیوں کانشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنی منصفانہ جدوجہدآزادی کشمیر جاری رکھنے پرحریت رہنمائوں مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال ،شاہد الاسلام،فاروق احمد ڈار، بلال صدیقی، مولوی بشیر عرفانی، امیر حمزہ، ڈاکٹر حمید فیاض اور مشتاق الاسلام کونئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ اور دیگر جیلوں میں قید کر رکھا ہے ۔حریت ترجمان نے واضح کیاکہ بھارت ظلم و بربریت اور گرفتاریوں سے نہ تو ماضی میں کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور کر سکا ہے اور نہ ہی مستقبل میں اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو گا۔انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور عالمی ریڈ کراس سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مختلف جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنمائوں اورکارکنوں کی رہائی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے اپنی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اقدامات کرنے کی بھی اپیل کی ۔





