پہلگام حملہ :کشمیری مسلمان بھارتی صحافیوں کی جانبدارانہ رپورٹنگ پر سراپا احتجاج
سرینگر: بھارت نے حق پر مبنی کشمیریوںکی تحریک آزادی کو دبانے کیلئے دس لاکھ سے زائد فورسز اہلکار انکے سروں پر بیٹھا رکھے ہیںاور و ہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بندوق کی نوک پر قائم کی جانے والی خاموشی کو امن کا نام دے رکھا ہے۔ پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے نے کئی سوالات کو جنم دیاہے ۔ اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ بھارت کی طرف سے رچایا جانے والا ایک اور فالس فلیگ آپریشن ہے جسکا بمقصد تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنے کیساتھ ساتھ پاکستان پر دہشت گردی کا الزام عائدکرنا ہے۔بھارتی میڈیاحسب سابق اس معاملے پر اپنی جانبدارانہ رپورٹ کرکے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی بھر پور کوشش کر رہاہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کشمیری مسلمان بھی پہلگام حملے پر اپنے سخت تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور وہ حملے کو سراسر سیکورٹی کی ناکامی قرار دے رہے ہیں ۔سرینگر کے علاقے لالچوک میں ایک شہری نے ایک بھارتی صحافیوں کے سامنے سوال اٹھایا کہ کشمیر میںلاکھوں بھارتی فوجی موجود ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کی موجودگی میں یہ حملہ کیونکر ممکن ہوا اور یہ فوجی کیا کر رہے تھے۔ شہری نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ انہیں صرف مسلمانوں کیخلاف بولنا آتا ہے ، خواہ یہ وقف بل ہو یا کوئی اور معاملہ وہ مسلمانوں کےخلاف ہی بولتے رہتے ہیں۔ شہری نے سوال کیا کہ وہ (امیت شاہ) اس وقت کہاں ہیں۔ انہوںنے کہا کہ پہلگام کا واقعہ محض کشمیری مسلمانوں کیخلاف ایک سازش ہے ، جس طرح چھٹی سنگھ پورہ ہوا ہے یہ بھی انہوںنے ویسے ہی کیا ہے۔انہوںنے کہا کہ اس سے پہلے بھی چند برس پہلے سرینگر ڈلگیٹ میں سیاحوں پر حملہ ہوا تھا، اگر اس کی رپورٹ دیکھی جائے تو سب پتہ چل جائے گا۔ پہلے وہ رپورٹ دیکھیں ، پھر بات کریں۔ شہری نے جذبات بھر ی آواز میں کہا کہ کشمیریوں کو بدنام کرنا بند کرو ، وہ کبھی بھی سیاحوں پر حملہ نہیں کریں گے۔ شہری کا کہنا تھا کہ وہ لالچوک کا رہائشی ہے اورمیں بچپن سے دیکھتا آرہا ہوں کہ یہاں کیا ہو رہا ہے ، کشمیریوں نے کبھی بھی سیاحوں پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔
سرینگر اور دیگر علاقوں میں شہری بھارتی صحافیوں کی جانبدارانہ رپورٹنگ پر سخت احتجاج اور پہہلگام واقعے پر اپنے دکھ اور افسوس کا بھر پور اظہار کررہے ہیں۔ ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائر ہیں جن میں کشمیریوں کو بھارتی رپورٹرو ں کا گھیراﺅکرتے اور انہیں جانبدارانہ رپورٹنگ سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتاہے۔







