مضامین

را کی پراکسی وار کا نیا ہتھیار؟

۱۰ مئی ۲۰۲۵ کی صبح، جب دنیا پاکستان اور بھارت کے مابین جاری تنازعے اور جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر فکر مند تھی، سوپور کے ایک مضافاتی علاقے سے ایک خود ساختہ نئی تنظیم "تحریک طالبان کشمیر” (TTK) کے قیام کا اعلان ہوا۔ سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں اس تنظیم نے نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان کے خلاف بھی زہر اگلا۔ بظاہر، یہ ایک "غیر جانب دار”، "خالص اسلامی” اور "کشمیر کی مکمل آزادی” کی خواہاں تنظیم ہے، لیکن اس کے دعووں اور اندازِ بیان میں وہی بو تھی جو ماضی میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جعلی پروپیگنڈا نیٹ ورکس سے آتی رہی ہے۔
یہ تنظیم پاکستان مخالف بیانیے کو نمایاں کرتے ہوئے نہ صرف کشمیریوں کے درمیان بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ایک منصوبے کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ اگر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ کوئی نیا طریقہ نہیں، بلکہ بھارت کا پرانا اور آزمودہ ہتھکنڈہ ہے — جھوٹے گروہوں، جعلی بیانیوں، اور پراکسی وار کا۔
بھارت کی خفیہ ایجنسی "را” کی پراکسی جنگیں ماضی میں مختلف روپوں میں سامنے آتی رہی ہیں۔ مکتی باہنی سے لے کر بلوچ علیحدگی پسندوں کی حمایت، اور تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی پشت پناہی، ان تمام کارروائیوں کا مقصد ایک ہی رہا ہے پاکستان کے اندرونی معاملات میں خلل ڈالنا اور اسے بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنا۔
TTK اسی فہرست میں ایک نئی کڑی کے طور پر ابھری ہے۔ یہ کوئی زمینی تنظیم نہیں، بلکہ ایک ڈیجیٹل قسم کی تنظیم ہے جسے ایک خاص ایجنڈے کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔ ان کا بیانیہ وہی ہے جو بھارتی اسٹریٹجک تھنک ٹینکس اور پراپیگنڈا ادارے عرصے سے پیش کر رہے ہیں جو کہ "پاکستان کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے”ہے
تحریک طالبان کشمیر کا ظہور جتنا ڈرامائی تھا، اس کی حقیقت اتنی ہی سطحی ہے۔ ان کی قیادت — مولانا مقبول ڈار اور مفتی محبوب بٹ — کی موجودگی کے کوئی معتبر شواہد موجود نہیں۔ نہ ان کی سابقہ جدوجہد کا کوئی ریکارڈ، نہ کوئی واضح نظریاتی بنیاد۔ TTK کا سوشل میڈیا ہینڈل غیر فعال ہے اور ان کے بیانات کسی ادارتی جانچ کے بغیر براہِ راست بھارت مخالف بیانیے سے ہٹ کر پاکستان مخالف رخ اختیار کرتے ہیں۔
یہی تضاد اس تنظیم کے اصل مقصد کو بے نقاب کرتا ہے: کشمیری عوام کو الجھانا، انہیں پاکستان سے متنفر کرنا، اور تحریکِ آزادی کو اندر سے توڑنا۔
الجزیرہ، دی گارڈین، اور دی نیویارک ٹائمز جیسے معتبر عالمی اداروں نے متعدد مواقع پر بھارت کی جانب سے "فالس فلیگ آپریشنز” اور جعلی گروہوں کے ذریعے اپنے مظالم کو چھپانے کی کوششوں کو بے نقاب کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں، خاص طور پر اپریل ۲۰۲۵ کے پہلگام حملے کے بعد جس میں TRF نے ابتدائی طور پر ذمہ داری قبول کی اور بعد میں انکار کر دیا، بھارتی ریاست کی مبہم سرگرمیوں پر دنیا کی نظریں اٹھنے لگی ہیں۔
TTK اسی سلسلے کا حصہ ہے، ایک ایسا ہتھیار جو گولی نہیں چلاتا بلکہ الفاظ، فریب، اور ڈیجیٹل گمراہی کے ذریعے دل و دماغ کو نشانہ بناتا ہے۔
بھارت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، لیکن مقبوضہ کشمیر میں اس کا رویہ ایک نوآبادیاتی آمر جیسا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، میڈیا کی سنسرشپ، اور مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال اب عام ہو چکا ہے۔
TTK جیسی جعلی تنظیمیں صرف اس پراپیگنڈے کو فروغ دینے کا ذریعہ ہیں جس کے تحت بھارت یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ نہ صرف وہ بلکہ پاکستان بھی کشمیریوں کے خلاف ہے، اور اس خطے کے عوام کسی حقیقی ہمدرد کے بغیر ہیں۔
آزاد کشمیر میں TTK کے جعلی آپریشنز، اگرچہ اب تک محض بیانات تک محدود رہے ہیں، مستقبل میں بھارت کے لیے ایک موقع بن سکتے ہیں کہ وہ پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام دہرائے۔
مذہب، خودمختاری، اور "نیوٹرل اسلام” کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کرنا، اور حقیقی مزاحمتی تحریکوں سے توجہ ہٹانا TTK کا دوسرا مقصد معلوم ہوتا ہے۔
کشمیر کے عوام کی جدوجہد صرف جغرافیہ کی نہیں، بلکہ شناخت، حقِ خود ارادیت، اور انسانی وقار کی ہے۔ اس جدوجہد کو بھارت کی جعلی تنظیموں، نام نہاد بیانیوں اور ڈیجیٹل مہمات سے نہیں روکا جا سکتا۔
پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کی حمایت کی ہے—نہ صرف سفارتی سطح پر، بلکہ اقوام متحدہ اور او آئی سی جیسے بین الاقوامی فورمز پر بھی۔ TTK کے الزامات، جن میں پاکستانی اداروں کو "بھارتی ایجنڈے” کا حصہ قرار دیا گیا، نہایت مضحکہ خیز اور زمینی حقائق سے دور ہیں۔
TTK ایک سایہ ہے، ایک دیوار پر لکھی ہوئی تحریر جس کا مقصد ذہنوں کو الجھانا ہے۔ لیکن کشمیری عوام کی شعور، قربانیوں اور تاریخی جدوجہد کو اس قسم کی سازشیں کمزور نہیں کر سکتیں۔ سچ ہمیشہ ابھرتا ہے، اور جھوٹ جتنا بھی چالاک ہو، آخرکار اپنے ہی بوجھ تلے دب جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیری عوام، پاکستان اور دنیا کے باشعور حلقے اس سازش کو سمجھیں اور اس کا مقابلہ اتحاد، سچائی اور بصیرت کے ساتھ کریں۔ بھارت کی جھوٹی پراکسیز ایک بار پھر بے نقاب ہو رہی ہیں۔ TTK کا وجود بھی جلد تاریخ کے فریب زدہ باب میں دفن ہو جائے گا۔
تحریر: محمد اقبال بٹ

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button