بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پارلیمانی وفد کی نیویارک میں اہم ملاقاتیں
نیویارک: بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پاکستان کے پارلیمانی وفد نے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کیلئے نیویارک میں اہم ملاقاتیں کیں ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پاکستان کے سفارتی وفد نے اقوام متحدہ میں امریکہ ، چین، روس کے مندوبین اوردیگر ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان کا موقف پیش کیا۔ اقوام متحدہ میں امریکا کی قائم مقام مستقل مندوب سفیر ڈوروتھی شیا نے بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پارلیمانی وفد سے پاکستان مشن نیویارک میں ملاقات کی۔ ملاقات میں جنوبی ایشیا کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں سہولت کاری پر امریکی انتظامیہ، بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اظہار تشکر کیا ہے۔ انہوں نے امریکی سفیر کو پہلگام حملے کے بعد کی صورتحال سے اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیرکو آگاہ کیا اور سخت تشویش کا اظہار کیا کہ بھارت نے بغیر کسی قابلِ اعتبار تحقیق یا مصدقہ شواہد کے پاکستان پر الزام تراشی کرنے کے بعد حملہ کردیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے امریکا پر زور دیا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تمام حل طلب مسائل کے حوالے سے بامعنی اور جامع مذاکرات کے آغاز میں اپنا کردار ادا کرے، بالخصوص سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی فیصلے کا نوٹس لے۔انہوں نے کہاکہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بھارت کی جانب سے "پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے” کے مترادف ہے۔پاکستانی سفارتی مشن نے اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کانگ سے نیو یارک میں اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں بھارتی جارحیت اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پرتفصیلی گفتگو کی گئی۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی اشتعال انگیزی پر چین کی حمایت پر اظہار تشکر کیا۔انہوں نے پہلگام حملے کے بعد پاکستان کے ذمہ دارانہ طرز عمل سے چینی وفد کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کو مسترد کیا۔پاکستانی سفارتی مشن کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری سے اقوام متحدہ میں روسی فیڈریشن کے مستقل مندوب واسیلی نیبینزیا نے ملاقات کی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارتی ہٹ دھرمی کے باوجود پاکستان نے خطے میں قیام امن اور بڑے پیمانے پر تصادم سے گریز کی حکمت عملی اختیار کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ملک ہے، پاکستان میں بھارت کی سرپرستی میں دہشت گردی کی سرگرمیاں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نہیں چاہتا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہو۔ پارلیمانی وفد نے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب اراکین سے ملاقات کی۔ ڈنمارک، یونان، پاناما، صومالیہ، الجزائر، گیانا، جاپان، جنوبی کوریا، سیرالیون اور سلووینیا کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں پاکستانی موقف پیش کیاگیا۔بلاول بھٹو زرداری نے بے بنیاد بھارتی الزامات کو دلائل کے ساتھ مسترد کیا اور دنیا کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی تحقیق یا شواہد کے پاکستان پر الزام تراشی ناقابلِ قبول ہے۔







