بھارت غیر ملکی مداخلت اور جاسوسی کرنے والا ایک ملک ہے، کینیڈین خفیہ ایجنسی
ٹورنٹو: کینیڈا کی ایک خفیہ ایجنسی نے بھارت کو غیر ملکی مداخلت اور جاسوسی کرنے والا ملک قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کینیڈین سیکیورٹی انٹیلی جنس سروس (سی ایس آئی ایس) نے اپنی سالانہ رپورٹ میں 2023میں سکھ کارکن ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور اس قتل میں بھارتی حکومت کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے اسے خالصتان تحریک کے خلاف بھارتی جبر میں ایک نمایاں اضافہ قرار دیا ہے ۔رپورٹ میں امریکہ میں سکھ رہنماﺅں کو نشانہ بنانے کی بھارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ کینیڈا کو بھارتی حکومت کی طرف سے نہ صرف نسلی، مذہبی اور ثقافتی برادریوں بلکہ کینیڈا کے سیاسی نظام میں بھی مسلسل بھارتی مداخلت کے بارے میں چوکنا رہنا چاہیے۔
سی ایس آئی ایس کے سابق انٹیلی جنس افسر ڈین اسٹینٹن نے کینیڈین ٹیلی ویژ ن (سی ٹی وی )نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا” مجھے امید ہے کہ ہماری حکومت حساس ادارے کے انتباہ پر توجہ دےگی۔انہوںنے کہا کہ مودی کو G7 میں بلانا قبل از وقت تھا ، ایک طرف ہم بین الاقوامی جبر کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ہم لوگوں کو مدعو کر رہے ہیں، انکے لیے سرخ قالین بچھار ہے ہیں اور ایسا ظاہر کررہے ہیں جیسے سب ٹھیک اور شاندار ہے۔ سابق انٹیلی جنس افسر نے مزید کہا کہ میرے خیال میں ہمیں کسی وقت بھارت کیساتھ بات چیت کی طرف واپس جانا پڑے گا، اپنے سفارت کاروں کو بھارت واپس بھیجنا پڑے گا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ G7 اس کے لیے مناسب مقام نہیں تھا۔
دریں اثنا کینیڈا کی قومی سلامتی کی سابق مشیر جوڈی تھامس کا کہنا ہے کہ جب تک بھارتی حکومت کی طرف سے کچھ اعتراف نہیں کیے جاتے اس وقت تک بے اعتمادی موجود رہے گی۔انہوںنے سی ٹی وی کو بتایا کہ ”میرا خیال ہے کہ اعتماد کو دوبارہ بحال کرنے میں برسوں لگیں گے۔
یاد رہے کہ کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے منگل کو کناناسکس، البرٹا میں G7 سربراہی اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ہمراہ اعلان کیا کہ دونوں ممالک میں ہائی کمشنرز کو بحال کیا جائے گا۔
2023 میں خالصتان حامی سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے کینیڈا میں قتل کے بعد دونوں ملکوں نے سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا تھا۔ سابق وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمنٹ میں قریر کے دوران نجر کے قتل میں بھارتی ہاتھ ہونے کا اعلان کیا تھا۔




