مقبوضہ کشمیر: لوگوں کوشدید گرمی کے موسم میں پانی ، بجلی کی شدید قلت کا سامنا
بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی تعمیر وترقی کے بھارتی دعوﺅں کا منہ چڑھا رہی ہے

سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کو شدید گرمی کے اس موسم میں پانی اور بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ علاقے میں پانی اور بجلی کے محکموں میں انجینئروں کی سینکڑوں آسامیاں خالی ہیں جنہیں انتظامیہ نہیں کر رہی جو اسکی لوگوں کی مشکلات کے تئیں عد م توجہی اوربے حسی کا ایک واضح ثبوت ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محکمہ پانی میں جونیئر انجینئرز سے چیف انجینئر کی سطح تک کی 802 آسامیاں خالی ہیں جبکہ پاور ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور اس سے منسلک کارپوریشنز میں انجینئرنگ کی 861 خالی آسامیاں ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں اسامیاں خالی ہونے کی وجہ سے ان محکموں کی عوامی خدمات اور کام کاج شدید متاثر ہیںجسکے نتیجے میں لوگوں کو بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے ، کچھ علاقوں میں 12 گھنٹے سے زائد بجلی کی بندش رہتی ہے جسکی وجہ سے پانی کی فراہمی کا نظام بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
مودی کی بھارتی حکومت دفعہ 370 کے منسوخی کے بعد مقبوضہ علاقے میں تعمیر و ترقی کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہے لیکن پانی اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی ان دعوﺅں کا منہ چڑھا رہی ہے۔







