مودی حکومت کی دوہری پالیسی نے اسے عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے: رپورٹ
اسلام آباد:مودی حکومت فلسطین اور ایران کے حوالے سے سفارتی سطح پر دوغلے پن کا شکار ہے جس نے ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت پر واضح موقف سے گریز کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دی وائر کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارت کی اس دوغلی پالیسی نے اسے عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کی جانب دھکیل دیا ہے۔ مودی حکومت نے غزہ میں فوری جنگ بندی کے حق میں اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں پر ہمیشہ خاموشی اختیار کی۔ اس کی خارجہ پالیسی کا محور اخلاقیات نہیں بلکہ مفادات ہیں۔دی وائر کا کہنا ہے کہ مودی نے پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم کے لیے اسرائیل کی حمایت کو ترجیح دی، مودی حکومت نے اقوام متحدہ میں میانمار میں ہونے والی زیادتیوں پر بھی خاموشی اختیار کی، روس کے یوکرین پر حملے کی کھل کر مذمت نہیں کی، جس سے بھارت کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت کی دوہری پالیسی سے عالمی سطح پر بھارت کی اخلاقی اور سیاسی اہمیت کم ہوگئی ہے، مودی کی غیر اخلاقی سفارتکاری سے بھارت بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ دی وائر کا کہنا ہے کہ مودی کی سیاست نے بھارت کو اخلاقی اعتبار سے تنہا کیا اور اس کے سفارتی تعلقات کمزور کیے، مودی حکومت کی خاموشی اور دوہری پالیسی بھارت کے عالمی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے، مودی کی خارجہ پالیسی عالمی اصولوں کی بجائے طاقت کے حساب سے فیصلے کرنے پر مبنی ہے جو بھارت کے لیے خطرناک ہے۔ اسرائیل ایران جنگ، فلسطین پر مظالم اور دیگر عالمی تنازعات پر بھارت کی دوغلی پالیسی مودی حکومت کی کمزریوں کو ثابت کرتی ہے۔







