مقبوضہ جموں و کشمیر

سرینگر: طلباءکا اوپن میرٹ ریزرویشن رپورٹ کو محکمہ قانون کو بھیجنے پر سخت ردعمل

سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں طلباءنے اوپن میرٹ ریزرویشن رپورٹ کو لاگو یا اس پر بحث کرنے کے بجائے اسے محکمہ قانون کو بھیجنے کے عمر عبداللہ حکومت کے اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے دھوکہ دہی کے مترادف قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق طلبا ءنے عمر عبداللہ کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ انہیں 23 دسمبر 2024 کو ایک واضح یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ریزرویشن پالیسی کا مسئلہ چھ ماہ کے اندر حل کر لیا جائے گا، ہم نے آپ (عمر عبداللہ ) کی طرف سے کرائی جانے والی اس یقین دہانی پر اعتماد کیا اور چھ ماہ انتظار کیا لیکن اب آپکی حکومت نے خاموشی سے اسے محکمہ قانون کو بھیج دیا،اگر قانونی رائے ضروری تھی تو مسودہ تیار کرنے کے دوران کیوں نہیں مانگی گئی؟
طلبا نے لکھا کہ مسودہ محکمہ قانون کو بھیجنا محض ایک تاخیری حربہ ہے اورہم اسے ایک دھوکہ سمجھتے ہیں۔
یاد رہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعہ متعارف کرائی گئی نظرثانی شدہ ریزرویشن پالیسی میں اوپن میرٹ (جنرل کیٹیگری) کی نشستوں کو 57 فیصد سے گھٹا کر صرف 33 فیصد کر دیا ہے، جبکہ شیڈولڈ ٹرائب (ایس ٹی) کوٹہ کو 10 فیصد سے 20 فیصد تک دوگنا کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام میرٹ اور انصاف پسندی کو واضح طور پر مجروح کرتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button