سرینگر میں یوم یوگا کی تقریب کا انعقاد بی جے پی کا ایک سیاسی ڈرامہ ہے
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیںمبصرین اور سیاسی کارکنوں نے بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کیطرف سے سرینگرمیں یوگا ڈے کی تقریب کے انعقاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے زبردستی اور ایک سیاسی ڈرامہ قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ناقدین نے بھاری فوجی موجودگی میں منعقدہ تقریب میں سرکاری ملازمین اور سکول کے بچوں کوزبردستی شریک کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سرینگر کے تجارتی مرکز او ر ایک علامتی اور تاریخی عوامی چوک لال چوک تک رسائی کو سرکاری جشن کی سہولت کے لیے مسدود کر دیا گیاجس سے عوامی غم وغصے میں مزید اضافہ ہوا۔مبصرین کا کہناہے کہ یہ تقریب صحت اور تندرستی کے حوالے سے ایک غیر جانبدارانہ تقریب کے بجائے حالات کو معمول کے مطابق اور خطے کابھارت میں انضمام دکھانے کے لیے ترتیب دی گئی تھی حالانکہ اگست 2019 میں دفعہ370کی منسوخی کے بعد سے یہ علاقہ نئی دہلی کے براہ راست کنٹرول میں ہے۔مبصرین نے تقریب کو مسلم اکثریتی علاقے پر ثقافتی تسلط کے لیے بی جے پی کی ایک وسیع مہم کا حصہ قراردیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت ہندوتوا پر مبنی بیانیے کو آگے بڑھا رہی ہے جس کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کی منفرد اسلامی شناخت کو مٹانا ہے۔کچھ مقامی لوگوں نے یوگا ڈے کی تقریب کو اختلاف رائے اور مزاحمت کو دبانے اور مقبوضہ علاقے کو ثقافتی طور پر ضم کرنے کی بی جے پی کی حکمت عملی کا تسلسل قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارتی فوجیوں کی نگرانی میں کئے جانے والے اس طرح کے علامتی اقدامات سے کشمیری عوام میں احساس محرومی اور عدم اعتماد مزید بڑھ جائے گا۔اگرچہ بین الاقوامی یوگا ڈے کو جسمانی اور ذہنی تندرستی کے فروغ کے لئے ایک غیر سیاسی تقریب کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، تاہم مقبوضہ جموں وکشمیر میں ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارتی قبضے اور فوجی کنٹرول کے تناظر میں اس طرح کی تقریبات کے زبردستی انعقاد کا مقصدثقافتی اور نظریاتی تسلط ہے ۔





