ؓبھارت: اندراگاندھی کی اعلانیہ ایمرجنسی کے 50، مودی کی غیر اعلانیہ ایمر جنسی کے 11برس
نئی دلی:بھارت میں وزیر اعظم اندرا گاندھی نے 25جون 1975کو ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا تھا ۔ سابق وزیر اعظم کی طرف سے نافذ کی جانے والی اس ایمرجنسی کو آج 50برس مکمل ہو گئے۔تاہم گزشتہ دس برس سے زائد عرصہ سے قائم بی جے پی حکومت جس بے دردانہ طریقے سے ملک میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے ، اسے ایک غیر اعلانیہ ایمرجنسی کا نام دینا بالکل برحق اور جائز ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نریندر مودی کی سربراہی میں قائم آج کل کی بی جے پی حکومت آج کے دن کو ”آئین کے قتل “ کا دن کے طور پر منارہی ہے ۔ وزیراعظم مودی سے لے کر وزیرداخلہ امت شاہ سمیت بی جے پی کے تمام مرکزی رہنماﺅں نے ”ایمر جنسی “ کے نفاذ کے حوالے سے کانگریس پر خو ب تنقید کی ہے۔مودی نے لکھا کہ آج ہندوستان کی جمہوری تاریخ کے سب سے سیاہ باب میں سے ایک، ایمرجنسی نافذ ہونے کے 50 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ بی جے پی نے آج کے دن کے حوالے سے کانگریس کو بدنام کرنے اور اسے تنقید کا نشانہ بنانے کیلئے ایک بھرپور سیاسی اورمیڈیامہم چلائی۔
اندرا گاندھی نے جب ایمرجنسی لگائی تھی تو اظہار رائے کی آزادی سمیت بھارتیوں کے تمام شہری حقوق سلب کرلیے گئے تھے اور پریس پر سینسر لگا کر اس کا منھ بند کر دیا گیا تھا، حزب اختلاف کے بیشتر رہنماو¿ں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا۔تاہم نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے انتہائی شاطرانہ طریقے سے یہ سارا کام کیا اور ملک میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں پر ایک غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے ۔ بی جے پی حکومت نے بھارت کو اس وقت بڑے پیمانے پر مذہبی فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا شکار کر دیا ہے ۔مودی حکومت نے ملک کے تمام آئینی اداروں کو اپنے زیر کنٹرول کر لیا ہے ، اس نے تمار سرکاری ایجنسیوں اور تحقیقاتی اداروںکو حز ب اختلاف کے رہنماﺅں ، مخالفین اور حق و صداقت کی آوازوں کے خلاف کارروائیوں پر لگادیا ہے ،میڈیا کو اپناتابع فرمان بنا کر کے اسے مکمل طور پر ”حکومتی ماﺅتھ “‘ بنا لیا ہے۔مودی حکومت بھارتی آئین کی جمہوری روح کو مٹانے کے درپے ہے اور وہ بھارت کو مکمل طور پر ایک ”ہندو ریاست“ میں تبدیل کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہے۔
اس ساری صورتحال میں کانگرس و حزب اختلاف کی دیگر جماعتیں بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ پچھلے گیارہ سالوں سے بھارت پریک ”غیر اعلانیہ ایمرجنسی “مسلط ہے۔بی جے پی کے رہنما، وزرا کھلے عام اقلیتوں کے خلاف زہر اگلتے ہیں، وہ سرعام مسلمانوں کو قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں ، اقلیتوںکے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں سے جواب طلبی کے بجائے انہیں عہدوں اور انعامات سے نواز جاتا ہے۔مودی حکومت نے شہریت ترمیمی ایکٹ اور وقف ترمیمی ایکٹ جیسے متنازعہ قوانین کے ذریعے ملک میں مسلمانوں کا گھیرا تنگ کردیا ہے ۔ بی جے پی حکومت کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق دینے کے بجائے جموں وکشمیریوں کو ہندو توا رنگ میں رنگنے کی ایک منصوبہ بند سازش پر عمل پیرا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت دلتوں، مسلمانوں ، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کو ایک منظم طریقے سے نشانہ بنا رہی ہے اور اس نے ان کیلئے بھارت کی سرزمین تنگ کر دی ہے ۔






