بھارت

بھارت پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں کرے گا، مودی حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار

نئی دلی: مودی کی بھارتی حکومت ہٹ دھرمی مسلسل برقرارہے اور بی جے پی کے وزیر نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو بحال نہ کرنے اورمقبوضہ کشمیر میں متنازعہ وولر جھیل پر تلبل منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بی جے پی کے آبی وسائل کے وزیر سی آر پاٹل نے کہاہے کہ بھارت سے پانی پاکستان نہیں جائے گااور نہ ہی سندھ طاس معاہدے کی بحالی پر کوئی بات ہو گی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ بھارت دریائے سندھ کی مغربی معاون ندیوں کے پانی کو روکنے کیلئے کام کر رہا ہے تاہم انہوں نے ا س بارے میں مزید تفصیلات دینے سے انکار کیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت مغربی دریائوں کے پانی کو روکنے کیلئے پانچ منصوبوں پر کام کررہی ہے ، جن پر پہلے سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے کام معطل تھا۔ان منصوبوں میں تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ بھی شامل ہے جس کے ذریعے دریائے جہلم سے پاکستان کی طرف جانیوالے پانی کو روکاجائیگا۔بھارت کی ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن تلبل منصوبے کے لیے ایک تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ پر کام کر رہی ہے۔سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریائوں سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر پاکستان کا حق ہے ۔تاہم بھارت ان دریائوں کے پانی کارخ موڑنے کیلئے کئی تجاویز پر کام کر رہاہے۔بھارت پہلے ہی دریائے چناب پر رتلے اوربگلیہار پن بجلی منصوبوں اور دریائے جہلم پر کشن گنگا پن بجلی پروجیکٹ مکمل کر چکا ہے۔بھارتی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکومت ایک نئی نہر کے ذریعے دریائے چناب کو راوی ،ستلج اور بیاس سے ملا کر مغربی دریائوں کارخ پنجاب اور ہریانہ کی طرف موڑنے کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ بھارت نے رواں سال اپریل میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو جواز بنا کر پاکستان اور آزاد کشمیرمیں بلا اشتعال جارحیت کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کردیاتھا۔دونوںہمسایہ ملکوں کے درمیان اس معاہدے کا ثالث عالمی بینک ہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button