مودی حکومت کی سطحی خارجہ پالیسی امریکی ٹیرف میں اضافے کی ذمہ دارہے: کانگریس
نئی دہلی: بھارت میں کانگریس پارٹی کے صدر ملک ارجن کھرگے نے امریکہ کی طرف سے بھارتی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کیے جانے پر مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے نئی دہلی کی سطحی خارجہ پالیسی کو اس کا ذمہ دارقراردیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ملک ارجن کھرگے نے خبردار کیا کہ بھاری ٹیرف سے برآمدی شعبوں میں ملازمتوں میں کمی آئے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے نئے ٹیرف میں بھارتی مصنوعات پر اضافی 25فیصد ڈیوٹی شامل ہے جس سے مجموعی ٹیرف 50فیصد ہو گیا ہے۔امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک حکم کے مطابق اس کا اطلاق آج سے امریکہ میں داخل ہونے والی مصنوعات پر ہوگا۔اگرچہ ٹرمپ نے 7اگست سے بھارت سمیت 70ممالک پر محصولات عائد کرنے کا اعلان کیاتھا تاہم بھارت کو روسی خام تیل کی مسلسل خریداری کی وجہ سے دوگنی شرح کا سامنا ہے جس پر مذاکرات کے لیے 21دن کی مہلت دی گئی تھی۔ملک ارجن کھرگے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں مودی کی ذاتی سفارت کاری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ” نریندر مودی جی، آپ کے پیارے دوست اب کی بار، ٹرمپ سرکار”نے آج سے بھارت پر 50فیصد ٹیرف لگا دیا ہے۔ ہمیں اس ٹیرف کے پہلے جھٹکے کے طور پر صرف 10شعبوں میں 2.17لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔انہوں نے کسانوں خاص طور پر کپاس کے کاشتکاروں پر شدید اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹوکے اعداد و شمار کا حوالہ دیا کہ بھارت کی جی ڈی پی کا تقریبا 1فیصد متاثر ہو سکتا ہے جس سے چین کو فائدہ ہونے کا امکان ہے۔کانگریس لیڈر نے بڑے پیمانے پر روزگار کے نقصانات سے بھی خبردار کرتے ہوئے کہاکہ تقریبا 5لاکھ ملازمتیں ٹیکسٹائل میں، ڈیڑھ سے دولاکھ جواہرات اور زیورات میں اور ہیروں کی کٹائی اور پالش کرنے میں 1لاکھ سے زیادہ ملازمتیں ختم ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہاکہ 50لاکھ کاشتکاروں کی روزی روٹی براہ راست اور 25لاکھ کی بالواسطہ طور پرسنگین خطرات سے دوچار ہے۔کھرگے نے خارجہ پالیسی کو غلط طریقے سے چلانے اور واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدے میں ناکامی پر مودی حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی مسکراہٹوں، گلے ملنے اور سیلفیز نے بھارت کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ آپ ہماری معیشت کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے اور اب ہمارے مزدور اور کسان اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔







