مقبوضہ جموں و کشمیر کی خواتین کی حالت زارکو اجاگر کرنے کے لئے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے: مقررین سیمینار

راولاکوٹ:سینیٹر فار ڈویلپمنٹ اینڈ سٹیبلیٹی کے زیر اہتمام ”ریاست جموں و کشمیر کی آہنی خاتون” کے عنوان سے ایک سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس میںسی ڈی ایس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عرفان اشرف نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈاکٹر عرفان نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی تحریکوں میں خواتین کا کردار انتہائی اہم رہا ہے ۔ اگر ہم ریاست جموں کشمیر کی تاریخ کا جائزہ لیں تو یہاں بھی حبہ خاتون سے لیکر آسیہ اندرابی تک لاکھوں خواتین نے ریاست جموں کشمیر کے لئے تاریخی کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ریاست جموں کشمیر کی خواتین کی زندگیوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی خواتین کی زندگیوں میں بڑا فرق ہے جس کے کئی پہلوئوں پر بات ہو سکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خواتین بھارت کی ظالم و جابر فوج کی بربریت کا شکار ہیں ۔ کنن پوشپورہ جیسے سانحات کشمیری خواتین پر بھارتی بربریت اور جبر کا ثبوت ہیں ۔ ہزاروں خواتین کی بھارت کی درندہ صفت فوج کے ہاتھوں بے حرمتی ، شوہروں کی گرفتاری اور ماورائے عدالت قتل اورجبری گمشدگیاں کشمیری خواتین کے لئے درد ناک ہیں ۔ اس وقت بھی آسیہ اندرابی سمیت کئی کشمیری خواتین بھارتی جیلوں میں قید ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف آزاد کشمیر کی خواتین پرامن اور آزاد ماحول میں اپنی زندگی گزار رہی ہیں ۔ آزاد کشمیر میں حکومتی سطح پر بھی خواتین کو بااختیاربنانے کے لئے کام کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خواتین کی آواز بننا ہے۔ ڈاکٹر عرفان نے سیمینار میں شریک خواتین سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خواتین کی حالت زار اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائیں۔ سیمینار کے اختتام پر ڈاکٹر عرفان اور پہلا قدم فائونڈیشن کے تعاون سے شروع کیے گئے ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کی تقسیم اسناد تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں چیئرمین پہلا قدم فائونڈیشن قاضی تنویر ، بشیر اللہ انقلابی اور ڈاکٹر عرفان نے طلباء کی حوصلہ افزائی کی۔







