عالمی برادری غزہ اور جموں و کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم رکوانے میں ناکام رہی ہے، پاکستان
اقوام متحدہ:
پاکستان نے کہا ہے کہ عالمی برادری غزہ اور جموں و کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم کو رکوانے میں ناکام رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آر 2 پی کی متنازعہ ڈاکٹرائن پر مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ غزہ، بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر اور دیگر بے شمار تنازعات اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ کمزور لوگوں کے تحفظ کے لیے ایک قابل اعتماد، اصولی اور غیر جانبدارانہ نقطہ نظر کی فوری ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ تحفظ کی ذمہ داری جسے کبھی عالمی عزم کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، کواب منتخب اطلاق، د وہرے معیار اور سیاسی بنانے کے ذریعے بے معنی کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد نسل کشی سمیت مظالم کے جرائم کو روکنا ہے۔انہوںنے کہاکہ آر 2 پی کے تصور کی جنرل اسمبلی نے 2005میں توثیق کی تھی، جس کے تحت ہر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کا تحفظ کرے،بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں ریاستوں کی مدد کرے اور جب کوئی ریاست اپنے اس مقصد میں ناکام ہو تو بین الاقوامی برادری اسکی مدد کرے ۔ عثمان جدون نے بتایا کہ تحفظ کی نام نہاد ذمہ داری، جو کبھی عالمی اخلاقی فرض کے طور پر پیش کی جاتی تھی،اب فراموش کر دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ غزہ اس اخلاقی دیوالیہ پن کو ظاہر کر رہا ہے۔انہوں نے واضح کیاکہ اسرائیل کی وحشیانہ فوجی مہم میں 55 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بیشتر خواتین اور بچے شامل ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ افرادزخمی ہوئے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ دوسری طرف بھارت کے غیر قانوی زیر تسلط جموں و کشمیر میں تقریبا 9 لاکھ بھارتی فوجی دہائیوں سے دہشت گردی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، جبری گرفتاریاں اورامتیازی سلوک مقبوضہ علاقے میں ایک معمول بن چکا ہے۔ نفرت انگیز ہندوتوا نظریے کے عروج نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے جس سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو قتل عام ہندوتوا ہجوم کے حملے میں اموات اور نسل کشی کے کھلے عام اعلان کردہ دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے معتبر بین الاقوامی اداروں کی طرف سے انتباہات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے جس سے ان مظالم کو بغیر کسی روک ٹوک کے جاری رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 6اور 7مئی کی غیر قانونی جارحیت میں پاکستان میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جس میں 15بچوں سمیت 35شہری شہید ہوئے ۔پاکستان نے جواب میں انتہائی تحمل سے کام لیتے ہوئے اپنے اقدامات کو صرف تصدیق شدہ فوجی اہداف تک محدود رکھا۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ بین الاقوامی برادری بار بار تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آر 2پی کے کسی اعتبار کو برقرار رکھنا ہے تو اسے انسانی وقار اور تحفظ کے لیے ایک حقیقی عزم کے طور پر لاگو کیا جانا چاہیے۔





