مودی حکومت نے اگنی ویرا سکیم کے نام پر بھارتی نوجوانوں کا مستقبل تباہ کردیا
ممبئی:
بھارت میں ہندو تواتنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کی کٹھ پتلی مودی حکومت فوج میں بھرتی کی اگنی ویرا سکیم کے نام پر نوجوانوں کا مستقبل تباہ کردیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مودی کی اگنی ویر اسکیم نے کروڑوں بھارتی نوجوانوں کو مستقل روزگار سے محروم کر کے 4سالہ جنگی غلامی میں دھکیل دیاہے، اگنی ویر سازش کے تحت مودی حکومت نے سپاہیوں سے پنشن، تحفظ اورمستقل نوکری کا حق چھین کر اڈانی کو اربوں کے دفاعی ٹھیکے دیئے۔ اگنی ویر سازش کے تحت مودی حکومت نے قومی سلامتی کے اداروں کو ذاتی مفادات اور سرمایہ داروں کے تجارتی عزائم کے تابع کر دیاہے۔کانگریس رہنما راہول گاندھی نے انکشاف کیا ہے کہ اگنی ویرا سکیم کا اصل مقصد فوجیوں کی پنشن، تنخواہوں اور اہلخانہ کی فلاح وبہبودکے فنڈز کو کارپوریٹ دفاعی سودوں کی طرف منتقل کرنا تھا۔فوجیوں کی پنشن کا پیسہ نکال کر اڈانی ڈیفنس کے اسلحہ کے کنٹریکٹس پر لگایا گیا ہے جو صرف ایک لیبلنگ فیکٹری ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اڈانی ڈیفنس نہ ہتھیار بناتا ہے نہ ڈرون صرف بیرون ملک سے منگوایا گیا اسلحہ اپنا لیبل لگاکرفروخت کرتا ہے۔ یہ اسکیم فوجیوں کی قربانی کو اڈانی کے منافع میں بدلنے کی سازش ہے، اگنی ویرا سکیم میں قومی دفاع کو کاروباری ماڈل میں جھونک دیا گیا ہے۔راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے وردی کا خواب بیچ کر اڈانی کو اربوںکے ٹھیکے دیدے ہیں ، نوجوانوں کے جذبے کو کاروبار میں بدل دیاگیاہے، بی جے پی جنگی فضا بنا کر اسلحہ کے نام پر اپنے قریبی سرمایہ داروں کو نواز رہی ہے جبکہ اگنی ویر اسکیم کے جھانسے میں آکر غریب نوجوان قربانی دے رہے ہیں۔کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ مودی نے فوج کو قومی دفاع کے بجائے اڈانی جیسے دوستوں کے بزنس ماڈل کا حصہ بنا دیا ہے، اگنی ویرا سکیم صرف کارپوریٹ منافع کا ایک خاموش ہتھیار بن چکی ہے جو سکیورٹی کے نام پر سرمایہ داروں کی جیبیں بھرتی ہے، اڈانی ڈیفنس غیر ملکی ہتھیاروں پر اپنا لیبل لگا کر قوم کو میڈ اِن انڈیا کا فریب دے رہا ہے۔اگنی ویراسکیم کو بھارتی عوام پر حب الوطنی کے نام پر مسلط کر کے منافع کمایا جا رہا ہے، اگنی ویرا سکیم مودی راج کی بھارتی نوجوانوں کے مستقبل پر مسلط جنگ ہے، بی جے پی کی جنگی سیاست کا سارا فائدہ اڈانی کو جاتا ہے، اگنی ویرا سکیم نوجوانوں کے خوابوں کا سودا اور اڈانی کی تجوریاں بھرنے کا منصوبہ ثابت ہوئی ہے۔





