بھارت

بھارت میں مسلمانوں کو عیدالاضحی کے موقع پر نمازِ عید اور قربانی پر پابندیوں کا سامنا

نئی دہلی: بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مظالم کا سلسلہ جاری ہے اورکئی ریاستوں میںعیدالاضحیٰ سے قبل نمازِ عید اور قربانی پر پابندیاںعائد کر دی گئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عیدالاضحیٰ سے قبل مودی حکومت نے گائے، بچھڑے اور اونٹ کی قربانی پر پابندی کی وارننگ جاری کر دی ہے۔بھارتی ریاست مغربی بنگال کی بی جے پی حکومت نے جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق نئے سخت قواعد نافذ کر دیے جن کے تحت گائے، بیل، بھینس اور بچھڑوں سمیت کسی بھی جانور کو فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر ذبح نہیں کیا جا سکے گا۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جانور کو ذبح کرنے کی اجازت اسی صورت میں دی جائے گی جب متعلقہ حکام اور سرکاری ویٹرنری سرجن یہ تصدیق کریں کہ جانور کی عمر 14 سال سے زیادہ ہے اور وہ کام یا افزائش کے قابل نہیں رہا، یا مستقل بیماری، چوٹ یا معذوری کا شکار ہے۔سرٹیفکیٹ میونسپل چیئرمین یا پنچایت کے سربراہ اور سرکاری ویٹرنری سرجن مشترکہ طور پر جاری کریں گے۔
درخواست مسترد ہونے کی صورت میں متاثرہ شخص 15 دن کے اندر ریاستی حکومت سے اپیل کر سکے گا۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ منظور شدہ جانوروں کو صرف سرکاری یا مقررہ مذبح خانوں میں ہی ذبح کیا جا سکے گا جبکہ عوامی مقامات پر ذبح کرنامکمل طور پر ممنوع ہو گا۔قواعد کی خلاف ورزی پر 6 ماہ تک قید، 1 ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ نے عید الاضحی سے قبل قربانی اور نمازِ عید پڑھنے والوں کو دھمکی دے دی ہے۔اتراکھنڈ کے وزیرِ اعلیٰ نے بھی عیدالاضحیٰ سے قبل سڑکوں پر مذہبی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button