آسام کے ہندوتواوزیر اعلیٰ کی سوشل میڈیا پر جاری متنازعہ ویڈیو پر تنقید کا سلسلہ جاری

نئی دلی:بھارتی ریاست آسام کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکاری سوشل میڈیاایکس اکائونٹس سے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کی طرف سے مسلمانوں پر گولی چلانے کی ویڈیو پوسٹ کئے جانے پر کڑی تنقید کا سلسلہ جاری ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پوسٹ میں وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کو مسلمانوں کو گولی مارتے ہوئے دکھایاگیاہے جو جن میں ایک شخص نے ٹوپی پہن رکھی ہے جبکہ دوسراشخص باریش ہے ۔ ویڈیو کاکیپشن تھا: پوائنٹ بلینک شاٹ، کوئی رحم نہیں اور غیر ملکیوں سے پاک آسام۔شدید عوامی ردعمل کے بعداس متنازعہ تصویر کو حذف کر دیا گیاتھا۔ ناقدین کے مطابق ہندوتوا بی جے پی کے وزیراعلیٰ نے مسلمانوں، خاص طور پر بنگالی بولنے والے "میا” مسلمانوں کے خلاف تشدد پر ہندوئوں کو اکسانے کیلئے یہ ویڈیو پوسٹ کی ہے۔ہمنت بسوا سرما بار بار ان مسلمانوں کو بنگلہ دیش سے غیر قانونی ہجرت کرنے والے تارکین وطن قرار دیتے ہیں۔ ویڈیو میں اصلی فوٹیج کے ساتھ ایڈیٹ شدہ مناظر بھی شامل تھے، جس میں گولیاں ہدف پر لگتی دکھائی گئی، جس سے نفرت انگیز تقریر اور تشدد کا اشارہ دیاگیا۔ یہ واقعہ آسام میں ہمنت بسواسرما کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف مسلسل فرقہ وارانہ اقدامات کا حصہ ہے۔ سرما نے لوگوں کو مسلمان آٹو ڈرائیوروں کو کرایہ کم دینے اور بنگالی نژاد مسلمانوں کے ساتھ عدم تعاون یعنی ان کے ساتھ کاروبار نہ کرنے کی ترغیب دی۔
ادھرحزب اختلاف کی مرکزی جماعت بھارتی نیشنل کانگریس نے بی جے پی وزیراعلیٰ کی اس ویڈیو کومسلمانوں کی نسل کشی کا پیغام قرار دیاہے۔ کانگریس کے رہنما کے۔ سی۔ وینوگوپال اور سپریا شری نیت نے عدلیہ سے ہمنت بسوا سرماکے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے 9فروری کو حیدرآباد کی پولیس میں ہمنت بسوا سرما کے خلاف شکایت درج کرائی ہے اورسخت خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔ آسام کی آبادی کا تقریبا 34فیصد مسلمان ہیں، جن میں بنگالی بولنے والے "میا مسلمانوں” کی بڑی تعداد شامل ہے ۔ 2016سے بی جے پی کی حکومت اور 2021سے سرما کی قیادت میں ریاستی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں بشمول بلاجواز گرفتاریاں،ظلم و تشدد، ماورائے عدالت قتل اور ہجوم کے ہاتھوں قتل جیسے واقعات جاری ہیں ۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے ان مسلم کش اقدامات کی شدیدمذمت کی ہے۔گزشتہ سال ریاست میں کم از کم 50مسلمانوںکو ہلاک کیاگیاہے ۔ ناقدین کے مطابق اس متنازعہ ویڈیو اور سرکاری پالیسیوں سے ظاہر ہوتاہے کہ آسام کے مسلمانوں کے خلاف ایک منظم مہم جاری ہے۔ہمنت بسوا سرما کے بیانات اور بی جے پی کی پالیسیوں نے ریاست میں مسلمانوں سے نفرت کو معمول بنادیاہے جس سے آسام میںاقلیتوں کے تحفظ اور جمہوری اصولوں کی بالادستی پر سوال اٹھ گئے ہیں ۔





